طلاق کو پستول خریدنے کے ساتھ معلق کرنا

طلاق کو پستول خریدنے کے ساتھ معلق کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص  نے اپنے بھائی سے ایک پستول خریدی بمع کار توس ،اس نے بھائی  کو کہا کہ یہ پستول اپنے پاس ہی رکھ لو، میں کچھ عرصے کے بعد آپ سے لوں گا، کچھ عرصے کے بعد اس شخص نے بھائی کو کہا میرا پستول مجھے دے دو، لیکن کارتوس کا بھی مطالبہ کیا، تو بھائی نے انکار کیا، تواس شخص نے کہا کہ: اگر میں یہ پستول لوں گا، تو میری بیوی کو تین طلاق، اوربھائی سے پیسے بھی واپس لیے، اب بھائی کا انتقال ہوگیا ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اب وہی پستول بھائی کے بیٹے ہی پیسوں میں اس شخص کو دے دے، تو کیا  بیوی کو طلاق ہوگی یا نہیں؟ دوسری صورت یہ ہے کہ اگروہ شخص کچھ مزید رقم دے کر وہی پستول خریدے تو اس کی بیوی کو طلاق ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے طلاق کو پستول نہ لینے کے ساتھ معلق کیا ہے، لہذاوہ شخص یہ پستول بھائی کے بیٹے یا اس کے علاوہ جس سے بھی لے گا، تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گے۔
لما في التاتارخانية:
”رجل حلف لا يدخل دار فلان“ وھو يسكن دارا لا يملكھا فدخلھا الحالف: حنث، ولو دخل دار مملوكة لفلان وساكنھا غيره: حنث أيضا“. (كتاب الأيمان، نوع آخر في الدخول، 171/6، فاروقية)
وفي التنوير مع الدر:
”(وفيھا) كلھا (تنحل) أي: تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة)“. (كتاب الطلاق، 596/4، رشيدية)
وفي الھداية:
”ففي ھذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت وأنتھت اليمين“. (باب الأيمان في الطلاق، ص:197، البشرى).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/117