طلاق کو فیکٹری میں کام کرنے کے ساتھ معلق کرنا

طلاق کو فیکٹری میں کام کرنے کے ساتھ معلق کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کسی فیکٹری میں کام نہیں کرنا چاہ رہا تھا، تو اس کے بھائی نے اس سے کہا کہ: میں نے اس فیکٹری (یعنی جس میں کام نہیں کرنا چاہ رہا تھا) میں آپ کے لئے کا م تلاش کیا ہے، وہاں جا کر کام کریں، تو وہ غصہ ہو کر کہنے لگا کہ: ’’ایک دو تین، اگر میں نے اس فیکٹری میں کام کیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے‘‘، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس آدمی نے مذکورہ فیکٹری میں کام کیا ہے ،تو ایک طلاق واقع ہو گی یا تین طلاقیں؟
وضاحت: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ’’ایک دو تین‘‘ سے اس کی طلاق دینے کی  نیت نہیں تھی، بس غصہ میں آکر یہ الفاظ بول دیے، اور ان کے عرف میں یہ الفاظ طلاق کے واسطے بھی استعمال ہوتے ہیں، اور کوئی کام شروع کرنے کے واسطے بھی۔

جواب

صورت مسئولہ میں چونکہ حالت غضب بھی ہے اور عرف بھی ہے، اس لیے مذکورہ جملہ (ایک دو تین، اگر میں نے اس فیکٹری میں کام کیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے) سے فیکٹری میں کام کرنے کے بعد تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، البتہ اگروہ اس بات پر قسم کھاتا ہے کہ میری نیت تین طلاق کی نہیں تھی بلکہ کلام کو شروع کرنے اور گنتی کی تھی تو دیا نتاًاس کا قول معتبر ہو گا، اور ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی ہے، لیکن قضاءًپھر بھی اس کا قول معتبر نہیں ہوگا۔
لما في رد المحتار:
’’ولو قال: لامرأته أنت بثلاث قال ابن الفضل: إذا نوى يقع أنه هنا إذا نوى.... ولو قال أنت مني ثلاثا طلقت إن نوى أوكان في مذاكرة الطلاق، وإلا قالوا يخشى أن لا يصدق قضاءانتهى‘‘.(كتاب الطلاق، مطلب في قول الإمام إيمانى كإيمان جبريل:485/4، رشيدية)
وفي الهندية:
’’ولو قال أنت بثلاث وقعت ثلاث إن نوى ولو قال لم أنو لا يصدق إذا كان في حال مذاكرة الطلاق وإلاصدقه ومثله بالفارسية توبسه على ما هو المختار للفتوى‘‘.(كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق :205/2،رشيدية)
وفي الفتاوى البزازية:
’’وكذالوقال:دادمت يك طلاق وسكت ثم قال:ودو طلاق وسه طلاق يقع الثلاث،ولو قال:ترايك طلاق وسكت ثم قال:ودو يقع الثلاث ولو قال:دو بلا و وإن نوى العطف فثلاث وإلا فواحدة‘‘.(كتاب الطلاق، نوع آخر، طلقها ثم قال طلقتك:2/ 266،265، رشيدية)
وفي الهداية:
’’وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط،مثل أن يقول لامرأته:إن دخلت الدارفأنت طالق وهذا بالاتفاق‘‘.(كتاب الطلاق،باب الأيمان في الطلاق:196/3،البشرى)
وفي تنويرالأبصار:
’’(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه كطلقتك وأنت طالق ومطلقة ويقع بها واحدة رجعية)‘‘.(كتاب الطلاق،باب الصريح:4/ 443-447، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:189/199