صاحب نصاب آدمی اپنی زکوٰۃ یا کسی اور سے زکوٰۃ لے کر اپنا مدرسہ تعمیر کرسکتا ہے؟

صاحب نصاب آدمی اپنی زکوٰۃ یا کسی اور سے زکوٰۃ لے کر اپنا مدرسہ تعمیر کرسکتا ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ایک ساتھی جو گزشتہ سال علوم دینیہ سے فارغ التحصیل ہوئے اور وہ کافی سرمایہ دار بھی ہیں، یعنی نصاب زکاۃ کے مالک ہیں، تو کیا وہ اپنی زکاۃ یا کسی اور سے زکاۃ لے کر اپنے لیے دینی مدرسہ تعمیر کرسکتا ہے؟ یا یہی زکاۃ کے پیسے کسی اور شخص سے قبول کروا کے مدرسہ کی تعمیر یا بنیاد پر خرچ کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے مالک بنانا شرط ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اپنی زکوۃ یا کسی اور سے زکوۃ کی رقم لے کر بغیر تملیک کر وائے اپنے لیے مدرسہ تعمیر کرنا جائز نہیں، البتہ اگر زکوۃ کی رقم کی تملیک کروا کر اس طریقہ پر لیا جائے کہ ”زکوۃ دینے والا بذات خود یااس کا وکیل کسی فقیر کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ کہیں سے قرض لے کر مدرسہ کے منتظم کو مدرسہ کے لیے عطیہ کردے، تاکہ وہ اس مال کو حسب ضرورت مدرسہ کی تعمیر وغیرہ میں خرچ کرلے، پھر اس میں فقیر کو زکوۃ کا مال دیا جائے، تاکہ وہ اپنا قرضہ ادا کرسکے، تو جائز ہے۔
یاد رہے کہ ایک حیلہ ہے، شدید مجبوری میں اس کی گنجائش ہے، عام حالت میں نہیں۔
لما في تنوير الأبصار:
”ھي تمليك جزء مال عينه الشارع من مسلم فقير غير ھاشمي ولا مولاه“ (كتاب الزكاة، 203/3، رشيدية)
وفي الھندية:
”وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بھا التمليك كعمارة للساجد، وبناء القناطر والرباطات، لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه، والحيلة: أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك..... الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة. (كتاب الحيل، الفصل الرابع في الصوم: 395/6، دار الفكربیروت)
وفي التنوير مع الدر:
”ويشترط أن يكون الصرف (تمليكاً) لا إباحة، كما مر...  (لا) يصرف (إلى بناء مسجد وكفن ميت وقضاء دينه.....) وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل ھذه الأشياء“. (كتاب الزكاة، باب المصرف 341/3، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/222