کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شراکت داروں نے مل کر زمین خریدی ہے، لیکن زمین میں اب تک کاغذی کارروائی مکمل نہیں ہوئی اور زمین شراکت داروں میں تقسیم نہیں ہوئی تو کیا اس زمین پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں ؟ واضح رہے کہ زمین تجارت کی نیت سے خریدی ہے۔
صورت مسئولہ میں ہر شریک کا حصہ اگر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو ہر شریک پر زکوۃ کی ادائیگی کے دن کے حساب سے زکوۃ واجب ہے۔لما في الدر مع الرد:”(وسبب لزوم أدائھا توجه الخطاب) يعني قوله تعالى {وآتوا الزكاة} وشرطه أي شرط افتراض أدائھا (حولان الحول) وهو في ملكه... (أو نية التجارة)“. (كتاب الزكوة: 221/3، رشيدية)لما في الدر مع الرد:وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء. قوله: (وهو الأصح) أي: كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح، فإنه ذكر في البدائع: أنه قيل إن المعتبر عنده فيھا يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء، وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح، فھو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولھما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندهما. (كتاب الزكوة: 251/3، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/19