شرکت میں نفع کے لیے اوسط نکالنا

شرکت میں نفع کے لیے اوسط نکالنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر کو دولاکھ روپے کاروبار کے لئے دئے، اور نفع کے لئے یہ ترتیب بنائی کہ مہینے میں اوسطا دس  ہزار نفع ہوتا ہے، اس سے کم زیادہ بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ دس ہزار دونوں کے درمیان مقرر حصوں کے بقدر تقسیم ہوں گے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح معاملہ کرنا کیسا ہے؟ اور اوسط نکالنا کیسا ہے؟ اگر یہ معاملہ جائز نہیں، تو اس کے متبادل کی طرف رہنمائی فرمائیں۔
وضاحت: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ زید اور بکر دونوں نے مل کر کاروبار میں پیسے لگائے ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں زید اور بکر کا معاملہ شرعا شرکت ہے، اور اس میں کسی ایک کے لئے نفع آنے سے پہلے رقم کو مقرر کرنا درست نہیں، بلکہ ہر ایک کے لئے فیصدی حصہ متعین کیا جائے۔
لہذا صورت مسئولہ میں زید اور بکر کا محض نفع کا اندازہ لگانے کے لئے تو اوسط نکالنا درست ہے، البتہ نفع میں رقم کو متعین کرنے کے لئے اوسط نکالنا درست نہیں۔
لما في البدائع:
”ومنھا أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما فلا يتحقق الشركة في الربح“. (کتاب الشركة، فصل في شروط جواز هذه الأنواع، 509/7، دار المعرفة)
وفي الھندية:
”وشرط جواز هذه الشركات... أن يكون الربح معلوم القدر فإن كان مجھولا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة“. (كتاب الشركة، الباب الأول في بيان أنواع الشركة، 311/2، دارالفكر)
وفي التنوير مع الدر:
”(وكون الربح بينھما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منھما معلوما) عند العقد“. (كتاب المضاربة، 501/8، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/296