کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رمضان میں شبینہ یعنی تین دن کا ختم القرآن جائز ہے یا نہیں؟ اور کتنے بندوں میں کر سکتے ہیں؟ ایک لڑکا ایک دن پارہ سنائے اور دوسرے دن کوئی اور پارہ سنا سکتا ہے؟
صورت مسئولہ میں ذکر کردہ شبینہ چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:
۱…شبینہ نوافل کے بجائے تراویح میں ہو۔
۲…قرآن کریم ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے۔
۳…ریا ونمود کے لئے نہ ہو۔
۴…فضول خرچی نہ ہو۔
۵…سننے والے قرآن کریم مکمل ادب واحترام کے ساتھ سنیں ۔
لیکن تجربہ شاہد ہے کہ مذکورہ بالا شرائط کی رعایت نہیں کی جاتی، اس لئے مروجہ شبینہ سے احتراز کرنا چاہیے۔لما في التنويرمع الدر:’’(ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك لو على سبيل التداعي، بأن يقتدي أربعة بواحد كما في الدرر‘‘.(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل: 604/2، رشيدية)وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:’’قال شمس الأئمة الحلواني إن اقتدى به ثلاثة لا يكون تداعيا فلا يكره إتفاقا وإن اقتدى به أربعة فالأصح الكراهة‘‘.(باب الإمامة، ص:286، قديمي كتب خانه)وفي الحلبي الكبير:’’واعلم أن النفل بالجماعةعلى سبيل التداعي مكروه على ما تقدم ما عدا التراويح وصلاة الكسوف والإستسقاء‘‘.(تتمة سنن الصلاة، فصل في التراويح: 244/2، دار الكتب بشاور)وفي جامع الترمذي:’’عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: لم يفقه من قرأ القرآن في أقل من ثلاث‘‘.(أبواب القرأءات عن رسول الله صلى الله عليه و سلم، باب في كم أقرأ القرأن، ح:2949، ص:870، دار السلام).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 191/309