کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری برادری میں روایت ہے کہ لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو عاریۃ سونا پہنایا جاتا ہے، وہ سونا ملکیت کے اعتبار سے لڑکے والوں کا ہی ہوتا ہے، لڑکی کو اس سونے کا مالک نہیں بنایا جاتا، اسی طرح لڑکی والوں کی طرف سے بھی لڑکے کو سونا دیا جاتا ہے، جو لڑکی والوں کی ملکیت میں رہتا ہے، لڑکے کو اس کا مالک نہیں بنایا جاتا۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی اپنا سونا تو مجھ سے واپس لے چکی ہے، مگر میری والدہ کا سونا جو کہ اس کے پاس موجود ہے، وہ واپس کرنے سے انکاری ہے، میری بیوی کا کہنا ہے کہ یہ سونا تو میرا حق ہے، یہ تو میر اہد یہ ہے، جبکہ ہم نے اسے ہدیہ نہیں کیا اور نہ ہی یہ سونا میں نے حق مہر میں دیا تھا، میر اسوال یہ ہے کہ کیا میری بیوی کا سونے کے زیورات واپس نہ کرنا شرعا درست ہے؟ کیا سونے کے زیورات پر میری بیوی کا کچھ اختیار ہے؟ جب کہ وہ اپنا سونا واپس لے چکی اور ہم اپنے سونے کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، نیز اس سونے کا اصل حق دار کون ہے؟
صورت مسئولہ میں بیان کردہ صورتِ حال اگر مبنی بر حقیقت ہے، اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا، کہ آپ کے خاندان میں یہ رواج ہے کہ لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو عاریۃ سونا پہنایا جاتا ہے، اور آپ کی والدہ نے آپ کی بیوی کو جو سونا دیا تھا وہ عاریۃ دیا تھا، ملکیتًا نہیں، تو آپ کی بیوی کا سونے کے زیورات واپس نہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اور اس کو ان زیورات پر کوئی اختیار نہیں، لہذا آپ کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ آپ کی والدہ کا سونا آپ کی والدہ کو واپس کرے۔لما في التنوير مع الدر:’’(هي) لغة: مشددة وتخفف: إعارة الشيء. قاموس. وشرعا: تمليك المنافع مجانا أفاد بالتمليك لزوم الإيجاب والقبول ولو فعلا. وحكمھا: كونھا امانة. وشرطھا: قابلية المستعار للإنتفاع وخلوها عن شرط العوض لأنھا تصير إجارة....... (و) لعدم لزومھا (يرجع المعير متى شاء) ولو مؤقتة‘‘. (كتاب العارية، 8 /551، 549، رشيدية)وفيه أيضا:’’جھز ابنته بما يجھز به مثلھا ثم قال: كنت أعرتھا الأمتعة إن العرف مستمراً بين الناس أن الأب يدفع ذلك الجھاز (ملكاً لا إعارة لا يقبل قوله إنه إعارة، لأن الظاهر يكذبه (وإن لم يكن) العرف (كذلك) أو تارة وتارة فالقول له به يفتي، كما لو كان أكثر مما يجھز به مثلھا فإن القول له اتفاقاً والأم) وولي الصغيرة (كالاب) فيما ذكر وفيما يدعيه الأجنبي بعد الموت لا يقبل إلا ببينة شرح وهبانية. وتقدم في بابالمھر وفي الأشباه‘‘. (كتاب العارية، 562/8، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/198