سید کو امامت و خطابت کے عوض زکوٰۃ کی رقم دینا

سید کو امامت و خطابت کے عوض زکوٰۃ کی رقم دینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل سید کو مطلقا زکوۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور سید کو بعض امامت یا خطابت زکوۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سید کو مطلقا زکوۃ دینا جائز نہیں، اگر کسی نے دی تو اس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی اور اسی طرح بعوض امامت وخطابت کسی کو بھی زکوۃ دینا جائز نہیں، چاہے سید ہو یا غیر سید۔
لما في الدر المختار:
’’هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى‘‘. (كتاب الزكاة: 203/3، رشيدية)
(وكذلك في تبيين الحقائق: كتاب الزكاة: 17/2، دار الكتب العلمية)
(وكذلك في البحر الرائق: كتاب الزكاة: 352/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/337