سوشل میڈیا پر مذاقی ویڈیوز وغیرہ سے آمدنی کا حکم

سوشل میڈیا پر مذاقی ویڈیوز وغیرہ سے آمدنی کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو لوگ فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر مذاقی ویڈیوز وغیرہ بناتے ہیں، اور ان پر مشہور ہو جاتے ہیں، پھر ان کو اس سے آمدنی ملتی ہے، کیا یہ آمدنی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جاندار کی ویڈیو اور تصویر بنانا موسیقی سننا نا جائز اور حرام ہے، لہذا مذاقی ویڈیوز بناکر اس کو یوٹیوب فیس بک اور ٹک ٹاک پر لگانا نا جائز ہے، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے، اور اس کی آمدنی بھی حلال نہیں۔
چونکہ ویڈیوز بنانے والے کے چینل پر مختلف قسم کی بے پردہ عورتیں، میوزک، موسیقی اور نا جائز کاموں کی تشہیر کی جاتی ہے، جو کہ گناہ کے کام میں تعاون ہے، اس لیے بھی بچنا ضروری ہے۔
لما في التنزيل:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾.(سورة المائدة: 02)
وفي رد المحتار:
”وفي المنتقى: امرأة نائحة، أو صاحبة طبل، أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به“. (كتاب الاجارة، 93/9، رشيدية)
وفيه أيضا:
”وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان وقال: وسواء صنعه لما يمتھن، أو لغيره فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب، أو بساط، أو درهم وإناء وحائط وغيرها، فينبغي أن يكون محرماً لا مكروهاً إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره كلام البحر ملخصاً“. (كتاب الصلاة، 502/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی(فتوی نمبر:180/94)