کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پچھلے 3 مہینوں سے سونے کی زکوۃ مجھ پر واجب ہے لیکن میرے پاس اپنی تنخواہ میں اتنی بچت نہیں ہے کہ اس سے ادا کرسکوں، بلکہ میرے پاس سود کی رقم سے ایک لاکھ روپے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سود اسلام میں حرام ہے اور میں ان ایک لاکھ روپے کی سودی آمدنی سے نجات چاہتا ہوں اور میں اسے گھریلو اخراجات یا کسی اور چیز کے لیے استعمال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اس ایک لاکھ روپے کو سونے کی زکوۃ ادا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہوں؟ کیا اس کی اجازت ہے؟ اوریہ سودی رقم وہ ہے جو مجھے بینک سے ملی ہے۔
واضح رہے کہ شریعت نے سود کو حرام قرار دیا ہے، اور حرام مال کا حکم یہ ہے کہ اصل مالک کو واپس کر دی جائے، البتہ اگر واپسی ممکن نہ ہو، تو اسے بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا ضروری ہے۔
لہذا آپ کے لئے ان ایک لاکھ روپے سودی رقم سے زکوۃ ادا کرنا جائز نہیں، بلکہ آپ یہ رقم بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر کے اس حرام آمدنی سے نجات حاصل کریں۔لما في التنزيل:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ. فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ﴾. (البقرة: 278، 279).وفي الشامية:’’والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليھم وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه‘‘. (كتاب البيوع، مطلب فيمن ورث مالاً حراماً، 307/7، رشيدية).وفيه أيضا:’’رجل دفع إلى فقير من المال الحرام شيئا يرجو به الثواب يكفر ‘‘. (كتاب الزكاة، مطلب في التصدق من المال الحرام، 261/3، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/282