
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچے جب تک سات سال کے نہیں ہوتے اور انداز ہ چار پانچ سال کے ہو جائیں تو اس وقت کیا ان کو نماز کی رغبت دلانے کے لیے نماز پڑھنے کا طریقہ، فرائض، واجبات، سنت وغیرہ سکھایا جانا چاہیے؟ کیونکہ بچے تو چھوٹی عمر سے بہت سی چیزیں سیکھتے ہیں۔ بہت بچے پانچ سال سے پہلے سے سکول بھی جانے لگتے ہیں۔
نیز بچے جب تک سات سال کے نہیں ہوتے اور اندازہ چار پانچ سال کے ہو جائیں تو اس وقت کیا ان کو نماز کی رغبت دلانے کے لیے ان سے دن میں ایک یا دو نمازیں پڑھوالی جائیں تو کافی ہے ؟ کہ ان کو سات سے پہلے ہی نماز کی عادت ہو جائے ؟
صورت مسئولہ میں چونکہ عموما بچہ دائیں بائیں کی تمیز سات سال کی عمر میں کر لیتا ہے، البتہ اگر بچہ سات سال کی عمر سے پہلے ممیز ہو جائے، تو اس کو بھی نماز کی عادت ڈالی جائے۔لمافي بذل المجھود:”(قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مرو أولادكم) من الغلمان والجواري (بالصلاة وهم أبناء سبع سنين.......) أي: على تركھا (وهم أبناء عشر، وفرقوا بينھم في المضاجع) أي: فرقوا بين الأخ والأخت مثلا في المضاجع، لئلا يقعوا فيھما لا ينبغي؛ لآن البلوغ العشر مظنة الشهوة“. (کتاب الصلاة، 235/3، دار البشر)وفيه أيضا :”(أنه) أي: رسول الله صلى الله عليه وسلم (سئل عن ذلك) أي: متى يؤمر الصبي بالصلاة، (فقال: اذا عرف بيمينه من شماله، فمروه بالصلاة) والغالب أنه يحصل ذلك على سبع سنين، وبعضھم يعرف قبلھا، وبعضھم لا يعرف بعدها فلا يعتد بھم لقلتھم. (کتاب الصلاة، 237/3، دار البشر).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:180/162