’’زہ تالہ طلاق درکوم‘‘ سے وقوع طلاق کا حکم

’’زہ تالہ طلاق درکوم‘‘ سے وقوع طلاق کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں پانچ مرتبہ پشتو زبان میں کہا (زہ تالہ طلاق در کوم) میں آپ کو طلاق دیتا ہوں۔ ہمارے دار الافتاء کے ساتھیوں نے تحقیق کر کے جواب میں لکھا کہ آپ پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ اس کے بعد یہ شخص دوسرے دار الافتاء چلا گیا اور وہاں پر مذکورہ سوال میں صرف یہ اضافہ کیا کہ میرا ارادہ (طلاق دیتا ہوں) سے مستقبل کا زمانہ تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔ اب آپ حضرات اس مسئلہ میں وضاحت فرما کر ہمیں روشناس کرائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً صورت حال وہی ہے، جو سوال میں مذکور ہے۔ تو مذکورہ الفاظ سے تین طلاقیں (مغلظہ) واقع ہوگئی ہیں، کیونکہ طلاق صریح الفاظ میں دی گئی ہے اور الفاظ بھی زمانہ حال کے ساتھ خاص ہیں، جس میں استقبال کی نیت معتبر نہیں ہوتی، لہذاب بغیر حلالہ شرعیہ کے نہ رجوع جائز ہے اور نہ تجدید نکاح –
لما في رد المحتار:
’’لو ذكرت بلفظ المضارع سواء ذكرت أنا اؤلا، ففي القياس: لا يقع، لانه وعد، ووجه الاستحسان قول عائشة رضي الى عنھا لما خيرها النبي صلى الله عليه سلام: بل اختار الله ورسوله، واعتبره صلى الله عليه وسلم جوابا: لأن المضارع حقيقة في الحال مجاز في الاستقبال كما هو احد المذاهب وقيل: بالقلب، وقيل: مشترك بينھما وعلى الاشتراك يرجع هنا إرادة الحال بقرينة كونه إخبارا عن أمر قائم في الحال‘‘. (كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، 547/4، رشيديۃ)
وفي البحر الرائق:
’’ولكون المضارع عندنا موضوعا للحال والاستقبال في احتمال کما في كلمة الشھادة وأداء الشھادة فكان للتحقيق دون الرعد‘‘. (كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق 545/3، رشيدیۃ)
وفي البدائع :
’’وجه الاستحسان أن صيغة أفعل موضوعة للحال وانما تستعمل للاستقبال بقرينة السين وسوف على ما عرف في موضوعه‘‘. (کتاب الطلاق، فصل في قوله: اختاری، 264/4، رشیدیۃ)
وفي رد المحتار :
’’(أولم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق، اليھا عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله‘‘. (كتاب الطلاق ، باب الصريح، مطلب في قول البحر، 448/4، رشیدیۃ)
وفي الدر المختار :
’’(لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه (بھا) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول وما في المشكلات باطل أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره ولو ) الغير (مراهقا) بجامع مثله‘‘. (كتاب الطلاق، باب الرجعة، 43/5، رشیدیۃ).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/336