زکوٰۃ کی رقم کو مسجد ومدرسہ کی تعمیر و دیگر ضروریات میں خرچ کرنا

 زکوٰۃ کی رقم کو مسجد ومدرسہ کی تعمیر و دیگر ضروریات میں خرچ کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زکوۃ کے مبلغ سے مساجد ومدارس کی تعمیر ومرمت اور اس سے وابستہ ضروریات کی فراہمی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز پانی کی فراہمی، بجلی، کتب کی فراہمی، فرنیچر، صفائی اور اساتذہ وملازمین کی تنخواہ کی مد میں اخراجات میں زکوۃ کی رقم خرچ کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکوہ کی ادائیگی کے لیے کسی مستحق زکوۃ کو بلا معاوضہ مالک بتانا ضروری ہے، لہذا صورت مسئولہ میں مسجد ومدرسہ کی تعمیر ومرمت اور یگر ضروریات میں زکوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں۔
البتہ شدید مجبوری کی حالت میں یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ سب سے پہلے زکوۃ کی رقم کسی مستحق زکوۃ کو دے کر مالک بنا دیا جائے اور پھر اس کی طرف سے وہ رقم داخلِ مسجد ومدرسہ کر کے مذکورہ کاموں پر خرچ کیا جائے۔
لما في التنوير مع الدر:
’’ويشترط أن يكون الصرف (تمليكاً) لا إباحة كمامر. (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)‘‘. (كتاب الزكاة، باب المصرف، 3 /341، 342، مكتبة رشيدية)
وكذا في البحر الرائق:
(كتاب الزكاة، باب المصرف، 420/2، مكتبة رشيدية)
وفي الدر المختار:
’’وحيلة التكفين بھا التصدق على الفقير ثم ھو يكفن فيكون الثواب لھما‘‘. (كتاب الزكاة، 227/3، مكتبة رشيدية)
وكذا في الفتاوى العالمگيرية:
(كتاب الحيل، الفصل الثالث في مسائل الزكاة، 395/6، دار الفكربیروت).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/58