رمضان میں نیت کے بعد اضطراب کی حالت میں روزہ توڑنے کا حکم

رمضان میں نیت کے بعد اضطراب کی حالت میں روزہ توڑنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رمضان المبارک میں جس دن میرے سسر صاحب فوت ہوئے، تو اس دن رات سے میرا روزہ رکھنے کا پکا ارادہ تھا۔ سحری کے وقت بھی ارادہ تھا، لیکن سحری کھانے کے بعد جب سسر کی حالت دیکھی، تو میرا دل شش و پنج میں تھا کہ روزہ رکھوں یا نہ رکھوں، مگر جب اذان ہو گئی، تو میں نے یہ الفاظ زبان سے کہے کہ (میں روزہ رکھوں گی یار کھتی ہوں)، مگر دل میں وہی شش و پنج کی کیفیت تھی کہ روزہ رکھنا چاہیے یا نہیں، بہت پریشانی والی کیفیت تھی۔
اذان کے فوراً بعد سسر صاحب فوت ہو گئے۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد میری ساس صاحبہ نے مجھے روزہ کھولنے کا کہا اب بھی میرے دل میں یہ تھا کہ میں روزہ توڑ تو نہیں رہی؟ لیکن میں نے پانی پی لیا۔
اس صورت میں میرے ذمہ صرف روزے کی قضاء لازم ہے یا کفارہ بھی؟

جواب

صورت مسئولہ میں بیان کردہ صورتحال اگر حقیقت پر مبنی ہے، تو آپ کے ذمہ اس روزہ کی صرف قضا لازم ہے، کفارہ لازم نہیں۔
لما في بدائع الصنائع:
’’وذكر في ”المنتقى“ فيمن أصبح ينوي الفطر، ثم عزم على الصوم، ثم أكل متعمدا أنه لا كفارة عليه عند أبي حنيفة، وعند أبي يوسف عليه الكفارة، والكلام من الجانبين على نحو ما ذكرنا‘‘. (كتاب الصوم، فصل في حكم من أفسد صومه: 2/ 624، دار الكتب العلمية)
وفي التنوير مع الرد:
’’(أصبح غير نا و للصوم فأكل عمدا) ولو بعد النية قبل الزوال لشبھة خلاف الشافعي‘‘.
’’(قوله: قبل الزوال) هذا عند أبي حنيفة، وعندهما كذلك إن أكل بعد الزوال، وإن كان قبل الزوال تجب الكفارة؛ لأنه فوت إمكان التحصيل فصار كغاصب الغاصب، بحر أي؛ لأنه قبل الزوال كان يمكنه إنشاء النية وقد فوته بالأكل بخلاف ما بعد الزوال، والأول ظاهر الرواية، كما في البدائع‘‘. (كتاب الصوم، مطلب في حكم الاستمناء بالكف: 433/3، رشيديه).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/134