رقم خرچ ہونے کے ڈر سے پلاٹ خریدنے کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم

رقم خرچ ہونے کے ڈر سے پلاٹ خریدنے کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک پلاٹ خریدا، خریدتے وقت یہ نیت کی تھی کہ سوچا پیسے رکھے رکھے ختم ہو جائیں گےاس لئے پلاٹ خرید لوں، کبھی ضرورت ہو گی تو بیچ دیں گے، کیا اس نیت پر پلاٹ پر زکوۃ ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر پلاٹ خریدتے وقت یہ نیت کی تھی کہ مناسب موقع پر اس کو فروخت کر دیں گے تو اس کی موجودہ قیمت پر زکوۃ ہے، اور اگر ذاتی استعمال کی نیت سے خریدا تھا تو زکوۃ واجب نہیں، اسی طرح اگر خریدتے وقت نہ تو فروخت کرنے کی نیت تھی اور نہ خود رہنے کی تو اس صورت میں اس پر زکوۃ نہیں۔
لما في التنوير مع الدر:
’’(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة.... فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل‘‘.
وتحته في الرد:
’’لأن الشرط في التجارة مقارنتها لعقدها وهو كسب المال بالمال بعقد شراء‘‘.(كتاب الزكوة: 229/3، رشيدية)
وفي التنوير مع الدر:
’’(و)فارغ(عن حاجته الأصلية)؛ لأن المشغول بها كالمعدوم وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه‘‘.
وتحته في الرد:
’’وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين‘‘.(كتاب الزكوة: 212/3، رشيدية)
وفي فتاوى قاضي خان:
’’اشترى خادما للخدمة وهو ينوى أنه لو أصاب ربحا يبيعه فحال عليه الحول لازكوة فيه‘‘.(كتاب الزكوة: 154/1، دارالفكر).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:191/209