رشوت کے مال کو اجرت کے طور پر لینا

رشوت کے مال کو اجرت کے طور پر لینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ سرکاری ادارہ میں ملازم ہے اور افغانستان کے بارڈر پر ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے، افغان بارڈر پر دونوں جانب سے یعنی پاکستان سے افغانستان اور افغانستان سے پاکستان روزانہ کئی افراد غیر قانونی طور پر باڈر کراس کرتے ہیں، جن سے افسران بالا مخصوص رقم لیتے ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ بندہ اپنی ڈیوٹی اوقات کے علاوہ اضافی وقت بھی ڈیوٹی دیتا ہے، اس اضافی وقت پر بندہ کو افسران بالا کی طرف سے اپنی تنخواہ کے علاوہ اضافی رقم ملتی ہے، جب کہ یہ بات واضح ہے کہ افسران بالا وہی رقم ہمیں دیتے ہیں جو انہوں نے غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کرنے والے افراد سے لی ہوتی ہے، کیا بندہ کے لیے اس اضافی رقم کا لینا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

واضح رہے کہ ملازم کو اگر معلوم ہو کہ مالک حرام کمائی سے تنخواہ دیتا ہے، تو ملازم کے لیے اس کا لینا حلال نہیں، مال حرام کو حتی الامکان اس کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے اور اگر مالک کو واپس کرنا کسی صورت ممکن نہ ہو تو اس کو مالک کی طرف سے بغیر نیت کے صدقہ کرنا واجب ہے، مال حرام کو اجرت میں دینا یا کسی طرح اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں۔
لما في التنزيل:
قال الله تبارك وتعالى: ﴿سمعون للكذب أكالون للسحت﴾. (سورة المائدة:42)
وفي أحكام القرآن للجصاص:
قال أبوبكر: اتفق جميع المتأولين لھذه الآية: على أن قبول الرشا محرم، واتفقوا على أنه من السحت الذي حرمه الله تعالى. (433/2، دارالكتب العلمية)
وفي الدر المختار مع الرد:
وعلى هذا قالوا: لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة، يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئاً وهو أولى بھم، ويردونھا على أربابھا إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بھا؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع: 385/5، رشيدية)
وفي رد المحتار:
قوله: (وفي الأشباه إلخ) قال الشيخ عبد الوهاب الشعراني في كتاب المنن: وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى إلى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما من رأى المكاس يأخذ من أحد شيئاً من المكس، ثم يعطيه آخر، ثم يأخذه من ذلك الآخر، فھو حرام. (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع: 385/6، سعيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:197/228