دو مختلف ممالک کی کرنسیوں کا آپس میں تبادلہ کا حکم

دو مختلف ممالک کی کرنسیوں  کا آپس میں تبادلہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر پاکستان میں ایک بندہ 80لاکھ روپے دبئی یا سعودی عرب میں مقیم بندے کو ٹرانسفر کرے اور وہ اس کے عوض ایک لاکھ درہم دیدے ،جس میں جانبین کو نفع ہوتا ہے، اور کبھی کبھار پاکستانی روپیوں اور دبئی کے دراہم میں باعتبار ریٹ کے کمی زیادتی ہوتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے، تو کیا اس طرح کا ایکسچینج اور تبادلہ شرعاً جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ موجودہ دور میں کرنسی ثمن عرفی کی حیثیت  رکھتی ہے، جو کہ فلوس نافقہ کے حکم میں ہے، اور اس میں کمی بیشی اور ادھار خریدوفروخت جائز ہے، بشرطیکہ جنس مختلف ہو اور مجلس عقد میں ایک طرف سے قبضہ پایا جائے مجلس عقد میں قبضہ نہ ہونے کی صورت میں عقد جائز نہیں ہو گا، نیز ہر ملک کی کرنسی خواہ وہ دراہم ہوں یا ریال یا پاکستانی روپیہ سب الگ الگ جنس شمار ہوتے ہیں، چونکہ صورت مسئولہ میں دونوں کرنسیوں کی جنس مختلف ہے اور مجلس عقد میں ایک طرف سے قبضہ بھی پایا جارہا ہے،لہذا آپ کا پاکستانی کرنسی کا تبادلہ دبئی کے دراہم یا سعودیہ عرب کے ریال سے کرناجائز ہے، البتہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ قیمت سےکمی بیشی کے ساتھ خریدوفروخت جائز نہیں ہے۔
لما في التنوير مع الدر:
’’(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر‘‘.(كتاب البيوع: 433/7، رشيدية)
وفي تبيين الحقائق:
’’قال رحمه الله:(فحرم الفضل والنساء بهما) أي بالجنس والقدر لما بينا أنهما علة الربا، قال رحمه الله:(والنساء فقط بأحدهما) أي حرم النساء وحل التفاضل بوجود أحدهما إما القدر دون الجنس كالحنطة بالشعير أو الجنس دون القدر كالهروي بالهروي لقولهعليه الصلاة والسلام{الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد}‘‘.(كتاب البيوع،باب الربا: 451/4، دار الكتب العلمية بیروت)
وفي تكملة فتح الملهم:
’’وأما الأوراق النقدية وهي التي تسمى [نوت]........ فالذين يعتبرونها سندات دين، ينبغي أن لا يجوز عندهم مبادلة بعضها ببعض أصلا، لاستلزام بيع الدين بالدين،ولكن قدمنا هناك أن المختار عندنا قول من يجعلها أثمانا، وحينئذ نجرى عليها أحكام الفلوس النافقةسواء بسواء وقدمنا آنفا أن مبادلة الفلوس بجنسها لايجوز بالتفاضل عند محمد رحمة الله، ينبغى أن يفتى بهذا القول  في هذا الزمان سدا لباب الربا ،وعليه فلايجوز مبادلة الأوراق النقدية بجنسها متفاضلا، ويجوز إذا كانت متماثلا..........وأما العملة الأجنبية من الأوراق فهي جنس آخر، فيجوز بالتفاضل،فيجوز بيع ثلاث ربيات باكستانية بريال واحد سعودى‘‘.(كتاب المساقاةوالمزارعة،حكم الأوراق النقدية، 589/1:دار العلوم کراچی)
وفي فقه البيوع:
’’أما تبادل العملات المختلفة الجنس ،مثل الربية الباكستانية بالريال السعودي ،فقياس قول الإمام محمد رحمه الله تعالى أن تجوز فيه النسية أيضا، لأن الفلوس (وهي الأثمان الاصطلاحية ) لو بيعت بخلاف جنسها من الأثمان، مثل الدرهم ،فيجوز فيها التفاضل و النسيئة جميعا، بشرط أن يقبض أحد البدلين في المجلس ،لئلا يؤدي إلى الافتراق عن دين بدين‘‘.(المبحث السابع، النسيئة في تبادل العملات بغير جنسها، 739/2: مكتبة معارف القران).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 192/194