دوران نماز وضو فاسد ہونے کی صورت میں تشبہ بالمصلین کرنا

دوران نماز وضو فاسد ہونے کی صورت میں تشبہ بالمصلین کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دوران نماز اگر مقتدی کا وضو ٹوٹ جائے اور وہ شرمساری کے باعث صفوں کے درمیان سے نکل کر وضو کے لیے نہ جائے، بلکہ تشبہ بالمصلین اختیار کرکے نماز پوری کرلے اور بعد میں وضو کرکے نماز دہرالے، تو کیا اس صورت میں گناہ گار ہوگا؟ بعض علماء سے سنا ہے کہ بے وضو سجدہ کرنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کا دوران نماز وضو ٹوٹ جائے اور وہ شرم کی وجہ سے دوبارہ وضو کے لیے نہ جائے، بلکہ اسی طرح نماز پڑھتا رہے، تو اگر نماز کی نیت سے پڑھے گا، تو گناہ گار ہوگا، البتہ صرف تشبہ بالمصلین کرتا ہے، نماز کی نیت نہیں، تو اس کی گنجائش ہے، لیکن  بغیر وضو نماز پڑھنے سے آدمی کافر نہیں ہوتا، جبکہ استہزاء مقصود نہ ہو۔
لما في البحر:
’’فإذا صلى بغير طهارة متعمدا فقد تهاون واستخف بأمر الشرع فيكفر... ومن ابتلى بذلك لضرورة أو لحياء ينبغي أن لا يقصد بالقيام قيام الصلاة ولا يقرأ شيئا وإذا حنى ظهره لا يقصد الركوع ولا يسبح حتى لا يصير كافرا بالإجماع‘‘.(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، 498/1، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:190/245