خشک کتا اگر کپڑوں سے لگ جائے تو کیا حکم ہے؟

خشک کتا اگر کپڑوں سے لگ جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یوکے میں ایک شخص ملازم ہے، وہاں پر اس کو ایک بلڈنگ کی سیکورٹی دی گئی ہے دوران ملازمت اس کو ایک سدھایا ہوا کتا دیا جاتا ہے جو کہ رسی سے بندھا ہوا ہوتا ہے کہ اس کتے کو اس بلڈنگ کے گرد گھمانا ہوتا ہے۔اس دوران خشک کتا اگر کپڑوں سے لگ جائے تو کیا کپڑے ناپاک ہوجائیں گے یا نہیں، اور وہاں پر ملازمت اختیار کرنا جائز ہے یا نہیں اور اس کی آمدنی حلال ہوگی یا حرام ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں خشک کتا اگر کپڑوں سے لگ جائے، تو کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے، اور وہاں ملازمت بھی جائز ہے، لہذا اس کی آمدنی بھی حلال ہوگی۔
لما في التاتار خانية:
’’الكلب إذا أخذ عضو إنسان أو ثيابه إن أخذ في حالة الغضب لا يجب غسله.... لا يتنجس ما لم يرہ البلل سواء كان الكلب راضيا أو غضبان‘‘. (كتاب الطھارة، معرفة النجاسات، 439/1، مكتبة فاروقية)
وفيه أيضا:
’’وإذا نام الكلب على حصير المسجد إن كان يابسا لا يتنجس‘‘. (كتاب الطھارة، معرفة النجاسات، 439/1، مكتبة فاروقية)
وكذا في فتاوى قاضيخان:
(كتاب الطھارة، فصل في النجاسة التي تصيب الثوب أو البدن أو الأرض، 15/1، دار الفكربیروت)
وفي صحيح البخاري:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من اقتنى كليا، فإنه ينقص كل يوم من عمله قيراط، إلا كلب حرث أو ماشية“، وقال ابن سيرين وأبو صالح: عن أبي ھريرة رضي الله عنه ”إلا كلب غنم أو حرث أو صيد“. (باب اقتناء الكلب للحرث، 312/1، قديمي كتب خانه)
وفي الھداية:
’’وليس الكلب بنجس العين، ألا ترى أنه ينتفع به حراسة واصطيادا‘‘. (كتاب الطھارة، باب الماء الذي يجوز به الوضوء وما لا يجوز، 64/1، مكتبة البشرى).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/141