کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نومبر2022ء میں میری شادی ہوئی تھی، سسرال والوں کی طرف سےمیری اہلیہ کو سوا8 تولہ بطور تحفہ کے دئیے گئے تھے، اور میرے گھر والوں (والدین) نے 10تولہ بطور تحفہ کے دئیے تھے، اور میں نے ایک تولہ حق مہر دیا تھا، اور اس کے علاوہ میری خالہ لوگوں اور دوسرے بہت سے لوگوں نے تحفے تحائف گولڈ سیٹ وغیرہ دئیے تھے، بعد میں نکاح کے بعد میری والدہ نے یہ سب گولڈ اپنے قبضے میں لے لیا، کہ یہ سب کچھ میں اپنے پاس بطور امانت حفاظت کی نیت سے رکھوں گی، کیوں کہ اگر میں نے یہ آپ لوگوں کو دے دیا تو آپ بیچ دیں گے، اور جب آپ مال دار ہوجائیں گے تو میں دےدوں گی، حالاں کہ ہمارا بیچنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اب شرعا ان سب گولڈ پر کس کا حق بنتا ہے، کیا ہم اپنے مطالبے میں درست ہیں، یا یہ امی ہی کے پاس رہیں؟ نیز والدہ نے ابھی تک رجوع نہیں کیا ہےتحفے سے، بلکہ صرف حفاظت کی نیت سے رکھ رہی ہیں، جب کہ میری بیگم کہ رہی ہےمیں نے آپ کو محافظ بنایا ہی نہیں ہے، مجھے میرا گولڈ چائیے، تولہ لے کر میں نے بیچ دیا ہے۔
وضاحت: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ جو پانچ تولہ سونا بیچا ہے، وہ بیوی کی اجازت سے تھا۔
صورت مسئولہ میں جو سونا(GOLD) آپ کی اہلیہ کو بطور تحفہ ومہر کے ملا تھا، وہ سب اسی کی ملکیت ہے، اور اس کی رضامندی کے بغیر کسی کو بھی یہ سونا اپنے پاس رکھنے کا کوئی حق نہیں،لہذا آپ کی والدہ پر لازم ہے کہ وہ سارا سونا آپ کی اہلیہ کو واپس کردیں۔لما في التنوير مع الدر:’’(هي)...(تمليك العين مجانا) أي: بلا عوض... (وسببها: إرادة الخير للواهب) دنيوي: كعوض ومحبة وحسن ثناء.وأخروي‘‘.(كتاب الهبة: 534/12، رشيدية)وفي بدائع الصنائع:’’ أما ركن الهبة؛ فهو الإيجاب من الواهب، فأما القبول من الموهوب له فليس بركن استحسانا... فأما القبول والقبض ففعل الموهوب له، فلا يكون مقدور الواهب، والملك محكوم شرعي ثبت جبرا من الله تعالى، شاء العبد أو أبى، فلا يتصور منع النفس عنه أيضا، بخلاف البيع‘‘. (كتاب الهبة: 84/8، دار الكتب العلمية بیروت)وفي البحر الرائق:’’(هي تمليك العين بلا عوض) فخرجت الإباحة والعارية والإجارة والبيع... وسببها إرادة الخير للواهب دنيوي كالعوض وحسن الثناء والمحبة من الموهوب له، وأخروي وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك‘‘. (كتاب الهبة: 483/7، رشيدية).فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 189/208