بیوی کا شوہر کو اپنا مہر ہدیہ دینے کا حکم

بیوی کا شوہر کو اپنا مہر ہدیہ دینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر کے بھائی نے پلاٹ لیا، تو میرے شوہر کو بھی خواہش ہوئی اور مجھے کہنے لگے کہ پیسے نہیں ہیں، اور میں پلاٹ لینا چاہتا ہوں، بعد میں قیمتیں بڑھ جائیں گی، تو میں نے ان کے مالی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ان کو پریشان دیکھ کر میں نے ان کا ساتھ دیا، اور زیور سارا جو والدین نے پہنایا تھا وہ بھی لیا اور جو انہوں نے مہر کے طور پر دیا تھا وہ بھی لیا، اور مجھ سے کہا کہ پہلے یہ بیچ  دیں گے اور بعد میں ضرورت پڑنے پر دوسرا بیچ  دیں گے (جو والدین نے دیا تھا)، تاکہ مجھے شک نہ ہو۔ پھر انہوں نے اسٹامپ پیپر میرے پاس لا کر مجھ سے سائن کروائے، میں نے کہا کہ یہ پیپر نہ لائیں، ویسے ہی زبانی بات کر لیں، تو انہوں نے کہا کہ ثبوت کے طور پر، اگلے دن مجھے زیور لانے کے لیے کہا، تو میں اس وقت قرآن پڑھ رہی تھی، تو میں نے اس وقت کہا کہ یہ اس صورت میں معاف ہو گا جب آپ مجھے نہیں چھوڑیں گے، تو اس بات پر ان کو غصہ آیا کہ تم نے یہ قرآن پکڑ کر کیوں کہا، غصہ کرنے لگے۔ زیور لینے کے ایک ماہ بعد مجھے طلاق دے دی، اولاد نہ ہونے کی وجہ سے۔ اب شوہر پر حق مہر کی ادائیگی لازم ہے یا نہیں؟ اگر لازم ہے تو کتنی مقدار لازم ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مکمل مہر ادا کر دے، تو طلاق دینے کے بعد شوہر پر مہر کی ادائیگی لازم نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کو کوئی چیز اپنی رضامندی سے تحفہ دے دے، تو وہ چیز تحفہ لینے والے کی ملکیت شمار ہوتی ہے، وہ جس طرح چاہے اس کو استعمال کر سکتا ہے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں شوہر نے مہر کی ادائیگی طلاق سے پہلے کردی تھی اور بیوی نے مہر اپنی رضامندی سے شوہر کو تحفہ دیا ہے، جس کی وجہ سے شوہر پر طلاق دینے کے بعد مہر کی ادائیگی لازم نہیں ہے، البتہ شوہر کا مہر وصول کرنے کا یہ طریقہ کار غلط ہے۔
لما في التنوير مع الرد:
’’وشرعاً: (تمليك العين مجاناً) أي: بلا عوض... وسببھا: (إرادة الخير للواهب).
دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء... (و) تصح (بالقبض بلا إذن في المجلس)، فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي: بعد المجلس بالإذن. وفي المحيط: لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده‘‘. (كتاب الھبة، 558/8، رشيدية).
وفيه أيضا:
’’وفي النتف: ثلاثة عشر لا يكون إلا بالقبض، أحدها: الھبة‘‘. (كتاب الھبة، 572/8، رشيدية).
وفي البدائع:
’’أما أصل الحكم: فھو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض؛ لأن الھبة تمليك العين من غير عوض، فكان حكمھا ملك الموهوب من غير عوض‘‘. (كتاب الھبة، فصل في حكم الھبة، 115/8، رشيدية).
وفي الفتاوى السراجية:
’’الھبة لا تفيد الملك إلا بالقبض، الموهوب له أو قبض في المجلس جاز‘‘. (كتاب الھبة، باب ما يكون قبضا في الھبة، ص:393، زمزم).
وفيه أيضا:
’’الھبة لا تبطل بالشروط الفاسدة، وهبه على أنه بالخيار جازت الھبة، والھبة باطل‘‘. (كتاب الھبة، باب الھبة الجائزة والفاسدة، ص:395، زمزم).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/350