
کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکی کا دل اپنے شوہر سے بالکل برا ہوگیا ہے، وہ اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہے، لیکن اس کے ماں، باپ، بہن اور بھائی اسے خاندان کی عزت کی خاطر مجبور کرتے ہیں کہ جاؤ اپنے شوہر کے گھر آپ کی لاش آسکتی ہے! لیکن آپ نہیں۔ اب اگر لڑکی نہیں جاتی، تو کیا یہ باپ کی نافرمانی میں آتا ہے؟ کیا حکم ہے اس کا؟
جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ بالکل نہیں رہنا چاہتی، ایسی عورت پر گھر والوں کا محض عزت خاندان کی خاطر زبردستی کرنا شرعی طریقہ نہیں ہے، اولاً تو میاں بیوی کے بیچ ان کے خاندان والے صلح اور اتفاق کی پوری کوشش کریں، پھر بھی اگر وہ ایک ساتھ رہنے پر راضی نہ ہوں، تو دوسری صورت میں بیوی خلع لے سکتی ہے، لہٰذا ایسی صورت میں والدین اسے خاندانی رسم ورواج کی وجہ سے مجبور کرنے کےمجاز نہیں، لیکن اگر مجبور کریں اور عورت خاوند کے گھر نہ جائے، تو اسے نافرمانی نہیں کہا جائے گا۔لمافی الدر مع الرد:’’(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق‘‘.وتحته في الرد:’’قوله: (للشقاق) أي لوجود الشقاق، وهو الاختلاف والتخاصم... السنة -إذا وقع بين الزوجين اختلاف- أن يجتمع أهلھا ليصلحوا بينھما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع‘‘. (كتاب الطلاق، باب الخلع: 89/5، رشيدية)لما في سنن أبي داؤد:’’قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا إن كل شيء من أمر الجاهلية تحت قدمي موضوع‘‘. (أول كتاب المناسك، باب صفة حجة... رقم:1905، ص:279، دار السلام)وفي صحیح البخاري:’’عن ابن عباس (رضي الله عنھما): أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله! ثابت بن قيس ما أعتب عليه في خلق ولا دين، ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((أتردين عليه حديقته)) قالت: نعم! قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((اقبل الحديقة وطلقھا تطليقة))‘‘. (كتاب الطلاق، باب الخلع... رقم: 5273، ص:943، دار السلام)وفي الھدایۃ:’’ولا يجوز للولي إجبار البالغة على النكاح‘‘.(كتاب النكاح، باب في الأولياء والأكفاء: 28/3، البشرى).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:180/61