بیماری کی حالت میں قضا کی ہوئی نمازوں کا حکم

بیماری کی حالت میں قضا کی ہوئی نمازوں کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ صاحبہ نے کبھی فرض نماز اور تہجد/ چاشت، اشراق کی نمازیں اور صبح شام قرآن پاک کی تلاوت نہیں چھوڑی تھی۔
جون 2019 میں ان کی طبیعت خراب ہوئی، جس کے بعد سے انہوں نے بمشکل چند دن یا مہینہ ہی نماز پڑھی وہ بھی اگر ان کو پڑھوانا تو پڑھی ورنہ نہیں یاد رہتا تھا، اُن کو پاکی اور ناپاکی کا معلوم نہ تھا اور مسلسل خاموش رہتی تھیں، اگر بات کرو تو جواب دیتی تھیں، ورنہ خاموش پڑھی رہتی تھیں نماز کا پوچھو تو کہتی تھی کہ نہیں پڑھنی اور کبھی کہتی تھیں کہ پڑھنی ہے۔
چار سال بستر پر رہیں بعد کے دو سال کھانا بھی کرسی میں کھلانا پڑتا تھا، بہت کم صحیح پہچان پا رہی تھیں پچھلے 8ماہ سے حالت بے حد خراب تھی، زیادہ تر اس عرصہ میں باتیں سر کے اشارہ سے کرتی تھیں 8 جون 2013 کو انتقال ہوا۔
تقریبا 8 سے 10 سال پہلے ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ ان کی یادداشت بہت کمزور ہوچکی ہے۔ اور بڑی بات ہے کہ یہ سب کو پہچانتی ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں آپ کی والدہ جو نمازیں بیماری کے دنوں میں اشارہ سے پڑھ سکتی تھیں اور انہوں نے نہیں پڑھی، تو ایسی نمازوں کے بارے میں اگر وصیت کی تھی، تو مال وراثت کے تہائی مال میں سے فدیہ ادا کرنا لازم ہے۔
اگر وصیت نہیں کی تھی، تو ورثاء پر لازم نہیں، مگر پھر بھی در ثاء اگر تبر عافدیہ ادا کریں، تو ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور امید ہے کہ قضاء نمازوں کا کفارہ بن جائے گا۔
اور بیماری کی وہ شدت جس میں موت تک ایسی حالت ہو کہ نماز اشارہ سے بھی نہیں پڑھی جاسکتی تھی، تو ایسی نمازوں کی قضاء وفد یہ کچھ بھی لازم نہیں۔
لما في الدر مع الرد:
’’(ولو مات وعليه صلوات فائتة) أي: بأن كان يقدر على أدائھا ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بھا... (وأوصى بالكفارة) أي: يعطي عنه وليه، أي: من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة، فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك؛ لأنھا عبادة، فلا بد فيھا من الاختيار (وكذا حكم الوتر... وإن تعذر الإيماء برأسه و كثرت الفوائت بأن زادت على يوم وليلة سقط القضاء عنه)... وهذا إذا صح، فلو مات ولم يقدر على الصلاة لم يلزمه القضاء حتى لا يلزمه الإيصاء‘‘. (کتاب الصلاة، مطلب في إسقاط الصلاة عن الميت: 644/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/62