بھینسوں پر عقد اجارہ کا حکم

بھینسوں پر عقد اجارہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک شخص کو تین بھینسیں خرید کر دی، جس کی دیکھ بھال اور کھانا پینا وہی خود کرتے ہیں دودھ نکال کر بیچتے ہیں، بھینس دن میں آٹھ (8) لیٹر دودھ دیتی ہیں جس کا روز کاٹوٹل (1840روپے) بنتے ہیں اور روز مجھے وہ(450 روپے) دیتے ہیں جو میراٹوٹل مہینہ(40،000 روپے) بنتے ہیں، تو پوچھنا یہ تھا کہ یہ جائز ہے یا ناجائز اور اگر یہ ناجائز ہے تو اس کا بہتر طریقہ بتائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں یہ معاملہ نا جائز ہے، اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ عامل (کام کرنے والے) کے لیے دن کے اعتبار سے اجرت مقرر کر دی جائے، اور باقی تمام نفع آپ لے لیں۔
لمافي الدر المختار:
’’(تفسد الاجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجھالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل‘‘. (كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة: 77/9، رشيدية)
وفي بدائع الصنائع:
’’وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فضروب: منھا أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع من المنازعة، فإن كان مجھولا ينظر إن كانت تلك الجھالة مفضية إلى المنازعة تمنع صحة العقد، وإلا فلا؛ لأن الجھالة المفضية إلى المنازعة تمنع من التسليم والتسلم، فلا يحصل المقصود من العقد فكان العقد عبثا؛ لخلوه عن العاقبة الحميدة، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة يوجد التسليم والتسلم فيحصل المقصود‘‘. (كتاب الإجارة، فصل في شرائط الركن: 538/5، دار الكتب العلمية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/236