بچوں کو نماز کا حکم دینا اور نہ پڑھنے پر مارنا

Darul Ifta

بچوں کو نماز کا حکم دینا اور نہ پڑھنے پر مارنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ الف: بچوں کو کس عمر سے نماز کا حکم دینا چاہیے؟ اور نماز ادا کرنے کا طریقہ سکھانا چاہیے؟ نیز کس عمر میں نماز نہ پڑھنے پر بچوں کو مارنا چاہیے؟ نیز اس مارنے کی حد اور طریقہ کیا ہے؟

جواب

سات سال کے بچے یا بچی کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے، اور دس سال کی عمر میں نماز ترک کرنے پر سزا بھی دے سکتے ہیں،  البتہ ایسی سزا نہ دی جائے جس سے بچے کے جسم پر نشان یا زخم آجائے۔
لما في رد المحتار:
”(هي فرض عين على كل مكلف) بالاجماع (وإن وجب ضرب ابن عشر عليھا بيد لا بخشبة) الحديث: ”مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع، واضربوهم عليھا وهم أبناء عشر“
’’قوله: (بيد) أي: ولا يجاوز الثلاث، وكذلك المعلم ليس له أن يجاوزها... .
قوله: (لا بخشبة) أي: عصا ومقتضى.
قوله: (بيد) أن يراد بالخشبة ما هو الأعم منھا ومن السوط أفاده ط...
قوله: (الحديث... الخ) استدلال على الضرب المطلق، وأما كونه، ”لا بخشبة“ فلأن الضرب بھا ورد في جناية المكلف“. (كتاب الصلاة، 2/ 7،8، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:180/161

footer