بلا تعیین مدت تعلیق طلاق کا حکم

بلا تعیین مدت تعلیق طلاق کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  زید نے طیش میں آکر یہ الفاظ ادا کیے کہ میری  بیوی کو تین طلاق ہیں اگر میں نے ماموں پر اپنے ماں کے حصے کے لیے عدالت میں کیس درج نہیں کیا اور اپنے ماں کا حصہ بزور عدالت نہیں لیا، چاہے کیس میں ہار جاؤں یا جیت جاؤں  مگر کیس کا فیصلہ ہونے تک لڑتا رہوں گا ہاں اگر ماموں کے بیٹوں نے کیس کے دوران میری ماں کا حصہ دینا چاہا، تو پھر صلح ضرور کروں گا مگر کیس لازما جمع کروں گا۔
۱… اگر زید نے عدالت میں کیس جمع نہیں کیا تو کیا طلاق واقع ہوگی؟
۲… اگر زید نے جمع کیا تو طلاق کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں چوں کہ زید نے اپنی بیوی کی تین طلاقوں کو اس بات پر معلق کیا ہے کہ اگر انہوں نے ماموں کے خلاف عدالت میں کیس جمع نہیں کیا، تو اس کی بیوی کو تین طلاق ہے، لیکن اس میں اس نے وقت کی تعیین نہیں کی، لہٰذا مرتے دم تک اس کو کیس جمع کرنے کا اختیار ہے، جب تک زندہ ہے اس وقت تک اس کی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ جب ان کا انتقال ہوجائے، تو شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی کو تین طلاقیں پڑ جائیں گی۔
اور اگر انہوں نے عدالت میں کیس جمع کردیا (اگر چہ وہ کیس ہار جائے)، تو اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
لما في الھدایة:
’’وإذا أضافہ إلی شرط: وقع عقیب الشرط، مثل أن یقول لامرأتہ: إن دخلت الدار فأنت طالق، وھذا بالاتفاق؛ لأن الملک قائم في الحال والظاھر بقاؤہ إلی وقت وجود الشرط، فیصح یمینا أو إیقاعا‘‘. (کتاب الطلاق، باب الأیمان في الطلاق: 196/3، البشرى)
وفي رد المحتار:
’’الحاصل: أنہ إذا کان شرط الحنث عدمیا، فإن عجز عن شر البر بفوات محلہ، لا یحنث وإن مع بقاء المحل حنث، سواء کان المانع حسیا أو لا، وکذا لو کان المانع کونہ مستحیلا عادة کمس السماء‘‘. (کتاب الطلاق، مطلب أن شرط الحنث إن کان عدمیا الخ: 642/4، رشیدیة)
وفي البدائع:
’’ثم نبین أعیان الشروط التي تعلق بھا الطلاق والعتاق علی التفصیل، ومعنی کل واحد منھما حتی إذا وجد ذلک المعنی یوجد الشرط، فیقع الطلاق والعتاق وإلا فلا.
أما الأول: فلأن الیمین بالطلاق والعتاق ھو تعلیق الطلاق والعتاق بالشرط، ومعنی تعلیقھما بالشرط وھو إیقاع الطلاق والعتاق في زمان ما بعد الشرط لا یعقل لہ معنی آخر، فإذا وجد رکن الإیقاع مع شرائطہ لا بد من الوقوع عند الشرط‘‘. (کتاب الأیمان، فصل في حکم ھذہ الیمین: 70/4، دار الکتب العلمیة).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/181