بخاری شریف کی احادیث کا حکم

بخاری شریف کی احادیث کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کہتا ہے کہ بخاری کے دو تہائی راوی غلط ہیں،اس کے جواب میں بکر کہتا ہے کہ یہ سراسر بخاری سے دشمنی اور انکار حدیث ہے، کیونکہ اگر بخاری شریف کے دو تہائی راوی غلط ہیں تو چونکہ ایک ایک راوی سے کئی کئی روایات مروی ہوتی ہیں، اس لیے تقریبا ساری بخاری ہی غلط ہوجاتی ہے، بخاری شریف کی اس قدر توہین کوئی منکر حدیث زندیق ہی کرسکتا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ بکر کی رائے درست ہے یا زید کی؟

جواب

بکر کی رائے صحیح ہے، اور زید کی رائے غلط ہے، بخاری اور مسلم کی احادیث بإجماع الأمت صحیح ہیں اور ان کے راوی بھی ثقہ ہیں،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں لکھا ہے کہ بخاری ومسلم کی احادیث پر طعن کرنے والا مبتدع ہے۔
جیسا کہ مذکورہ عبارت میں ہے:
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بارے میں تمام محدثین متفق ہیں کہ ان میں تمام کی تمام متصل اور مرفوع احادیث یقینا صحیح ہیں، یہ دونوں کتابیں اپنے مصنفین تک بالتواتر پہنچتی ہیں، جو ان کی عظمت نہ کرے وہ بدعتی ہےجو مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلتا ہے۔
(اردو ترجمہ: حضرت مولانا عبد الحق حقانی، باب: 78، کتب احادیث کے طبقات: 216، دار الاشاعت، کراچی)فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر: 06/166