ایک طلاق دینے کے بعد رجوع نہیں کیا تو حکم

ایک طلاق دینے کے بعد رجوع نہیں کیا تو حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے 3 ماہ پہلے میرے گھر والوں کے سامنے ایک طلاق دی، اس ایک طلاق کے بعد انہوں نے مجھے کوئی ایسے نہیں کہا، کہ میں رجوع کرتا ہوں یا نکاح برقرار رکھتا ہوں وغیرہ۔
واضح رہے کہ سابقہ 3 سالوں سے ہم میاں بیوی کے درمیان کوئی بھی ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا، نہ طلاق کے بعد کوئی تعلق قائم ہوا، میں ان کے گھر میں ساتھ رہ رہی ہوں، گھر کے کام کرتی ہوں اور وہ مار پیٹ غصہ سب پہلے کی طرح کرتے ہیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ 3 ایام ماہواری میرے گزر چکے ہیں، کیا میرا ان کے ساتھ رہنا شرعًا درست ہے؟ کیوں کہ انہوں نے رجوع کے الفاظ بھی نہیں کہے اور نہ ہی کوئی تعلق قائم کیا اگر شرعًا نکاح ختم ہوگیا ہے، تو کہیں میں گناہ کی مرتکب تو نہیں ہو رہی؟ راہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں واقعۃ اگر آپ کے شوہر نے طلاق کے بعد کسی بھی قسم کا ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا، شہوت کے ساتھ چھوا بھی نہیں اور زبان سے بھی رجوع نہیں کیا، تو تین ماہواری گزرنے سے نکاح مکمل ختم ہو گیا، بغیر تجدید نکاح کےساتھ رہنا اور شوہر کو اپنے اوپر قدرت دینا ناجائز اور حرام ہے۔
لما في التنوير مع الدر:
’’(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا، بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرھا) فإن طلاقه صحيح، لا إقراره بالطلاق‘‘. (كتاب الطلاق، مطلب في الإكراه على التوكيل: 427/4، رشيديه)
وفي بدائع الصنائع:
’’ولنا: نصوص الرجعة من الكتاب والسنة مطلقة عن شرط الإشھاد، إلا أنه يستحب الإشھاد عليھا؛ إذ لو لم يشھد لا يأمن من أن تنقضي العدة، فلا تصدقه المرأة في الرجعة، ويكون القول قولھا بعد انقضاء العدة، فندب إلى الإشھاد لھذا... وكذلك إذا لمسھا لشھوة أو نظر إلى فرجھا عن شھوة، فھو مراجع لما قلنا، وإن لمس أو نظر لغير شھوة لم يكن رجعة‘‘. (كتاب الطلاق، فصل في بيان ماهية الرجعة: 395/4، رشيدية)
وفي البحر الرائق:
’’وتنقطع الرجعة إن حكم بخروجھا من الحيضة الثالثة إن كانت حرة، أو الثانية إن كانت أمة؛ لتمام عشرة أيام مطلقا‘‘. (كتاب الطلاق، باب الرجعة: 87/4، رشيدية)
وفي رد المحتار:
’’والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لھا تمكينه... فإن حلف ولا بينة لھا فالإثم عليه قلت أي: إذا لم تقدر على الفداء أو الھرب ولا على منعه عنھا، فلا ينافي ما قبله‘‘. (كتاب الطلاق، مطلب في قول البحر إن الصريح يحتاج في وقوعه ديانة إلى النية: 499/4، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/26