ایفلیئیٹ مارکیٹنگAffiliate Marketing کا حکم

ایفلیئیٹ مارکیٹنگAffiliate Marketing کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا موجودہ دور میں رائج  ایفلیئیٹ مارکیٹنگ شرعی لحاظ سے جائز ہے؟
وضاحت: آج کل ایفلیئیٹ مارکیٹنگ کے نام سے ایک طریقہ ہیت عام ہو گیا ہے، جس میں ایک شخص کمپنی یا برانڈ کی مصنوعات یا سروسز کو آن لائن (ویپ سائٹ، یوٹیوپ، سوشل وغیرہ پر) پروموٹ کرتا ہے۔
اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ: ایفلیئیٹ مارکیٹر اس کمپنی میں اکاؤنٹ بناتا ہے، کمپنی اسے ایک خاص لنک یا کوڈ دیتی ہے، جس کے ذریعے وہ پروڈکٹ کو پروموٹ کرتا ہے، اگر کوئی خریدار اس لنک کے ذریعے یہ پروڈکٹ خریدلیتا ہے، تو کمپنی ایفلیئیٹ مارکیٹر کو ایک مخصوص کمیشن دیتی ہے، یہ کمیشن پہلے سے  متعین ہوتا ہے یعنی ایفلیئیٹ مارکیٹر کو معلوم ہوتا ہے کہ اس پروڈکٹ پر اتنی رقم ملے گی، اور اگر  پروڈکٹ کا آرڈر کینسل ہو جائے یا خریدار پروڈکٹ واپس کردے تو  ایفلیئیٹ کو کمیشن نہیں ملےگا۔
اہم بات یہ ہےکہ:خریدار کا تعلق براہ راست کمپنی یا بیچنے والے سے ہوتا ہے، ایفلیئیٹ مارکیٹرصرف واسطہ بنتا ہےپیسے کمپنی کو دیا جاتا ہے، ایفلیئیٹ کا لین دین خریدار سے نہیں ہوتا اگر کوئی نقصان یا خرابی ہو تو اس کی ذمہ داری کمپنی پر ہوتی ہے، ایفلیئیٹ ذمہ دار نہیں ہوتا۔
ان تمام تفصیلات کو مد  نظر رکھتے ہوئے عرض یہ ہےکہ: کیا اس قسم کی ایفلیئیٹ مارکیٹنگ جہاں ایفلیئیٹ خود فروخت کنندہ نہیں صرف سفارش کرنے والا ہو، شریعت کی روشنی میں جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی کمپنی کی مصنوعات کی آن لائن تشہیر کر کے اس پر فیصد کے اعتبار سے کمیشن لینا جائز ہے، شرعی اعتبار سے یہ شخص دلال ہے۔
البتہ ایفلیئیٹ مارکیٹنگ میں چند چیزوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:

  • حرام چیز کی تشہیر نہ ہو، حرام طریقے سے نہ ہو ۔
  • جس چیز کی تشہیر کی ہے اس کے تمام اوصاف ذکر کیے جائیں۔
  • شے کا حقیقی وجود ہو۔
  • کمیشن پہلے سے طے ہو، کمیشن مجہول نہ ہو۔

لما في الدر المختار:
’’وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف‘‘.
وتحته في الشامية:
’’(قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين‘‘.(كتااب البيوع: 93/7، رشيدية)
وفي الدر:
’’وقدمنا ثمة معزيا للنهر أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما، وإلا فتنزيها‘‘.(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع: 645/9، رشيدية)
وفي الشامية:
’’قال في التاترخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل ... وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه‘‘.(كتاب الإجارة، مطلب في أجرة الدلال، 107/9، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:193/284