ایفائے عہد کا شرعی حکم

Darul Ifta

ایفائے عہد کا شرعی حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ نے 400 گز کا مکان 34،50،000 کا 2004 میں بیچا تھا ، اس وقت میری چار بہنیں، میں اور میری والدہ تھیں، اس وقت والدہ نے بیٹیوں کو 2-2 لاکھ روپے دیے تھے، ایک بیٹی کو پیسے نہیں دیے تھے، والدہ نے اپنے لیے اس پیسے سے چار سونے کی چوڑیاں اور ایک لاکٹ سیٹ بنوایا تھا، اب مسئلہ یہ ہے کہ جس بہن کو پیسے نہیں دیے تھے، میں نے اس سے وعدہ کر لیا تھا کہ جب میرے پاس پیسے ہوں گے تو میں تمہیں دے دوں گا، اب یہ معلوم کرنا ہے کہ  جو پیسے میری والدہ نے دوسری بہنوں کو دیے وہی دوں بانٹے ریٹ سے، میری والدہ کا 2014 میں انتقال ہو گیا تھا، انتقال سے پہلے جو فلیٹ خریدا تھا وہ میرے نام کر دیا تھا، اور یہ فلیٹ مجھے ہبہ کرنے سے پہلے بہنوں کو بتا دیا تھا، مجھے صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ چھوٹی بہن کو کیا مجھے صرف 2لاکھ دینے ہیں، کیونکہ میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ: جو پیسے امی نے نہیں دیے، وہ میں دے دوں گا، باقی والدہ کی چیزوں کو بہنوں نے آپس میں تقسیم کر لیا تھا، مجھے اس گھر سے پیسے نہیں دیے تھے، لیکن انتقال سے پہلے یہ فلیٹ مجھے ہبہ کر دیا تھا، میں نے جو تفصیل پہلے بتائی ہے، وہی میرے علم میں ہے، جب مکان بیچا تھا، اور یہ فلیٹ خریدا تھا، اس وقت میری بڑی بہن اور بہنوئی نے سارے معاملات دیکھے تھے، اب وہ دونوں حیات نہیں ہیں، بہن کا انتقال میری والدہ سے پہلے ہو گیا تھا، اس لیے بہت ساری باتوں کا علم مجھے نہیں ہے۔
جیسے میں نے بتایا کہ: 400 گز کا گھر 34,50,000لاکھ میں سیل ہوا، میرے علم کے مطابق 2003 یا 2004 میں ان پیسوں سے یہ فلیٹ خریدا 16 لاکھ میں، اس پیسے میں سے 2-2لاکھ تین بہنوں کو دیے، چھوٹی بہن کو نہیں دیا، یہ کہ جب یہ بڑی ہو جائے گی تو دے دیں گے، اس کے پیسے انہوں نے بڑی بہن اور بہنوئی کے پاس رکھوا دیے تھے، باقی پیسوں سے 4 سونے کی چوڑیاں اور ایک لاکٹ سیٹ بنوایا، اور تین لاکھ روپے قومی بچت میں رکھے، لیکن جب وہ بیمار رہنے لگیں، تو انھوں نے یہ پیسے استعمال کیے، اور زیور بھی بیچ دیا، اور جو پیسے بہن کو نہیں دیے، یہ بات انہوں نے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے بتائی۔
وضاحت: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ والدہ نے جو مکان فروخت کیا تھا وہ اس کا اپنا ذاتی تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ نے اپنی چھوٹی بہن سے وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ”جو پیسے امی نے نہیں دیے وہ میں دے دوں گا“ اب چونکہ والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور انہوں نے پیسے ادا نہیں کیے، لہٰذا آپ کے ذمے پیسوں کا ادا کرنا شرعا لازم نہیں، لیکن اخلاقا اور صلہ رحمی کے طور پر وعدہِ وفا کرتے ہوئے ادا کرنا چاہیے۔
لما في أحكام القرآن للجصاص:
’’قوله تعالى: (وأوفوا بالعھد) يعني والله أعلم إيجاب الوفاء بما عاهد الله على نفسه من النذور والدخول في القرب، فألزمه الله تعالى إتمامھا، وهو كقوله تعالى: (ومنھم من عاهد الله لئن آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين فلما آتاهم من فضله بخلوا به وتولوا وهم معرضون فأعقبھم نفاقا في قلوبھم).... قوله (إن العھد كان مسؤولا) معناه: مسئولا عنه للجزاء... وقيل: إن العھد يسأل فيقال لم نقضضت؟ كما تسأل الموؤدة بأي ذنب قتلت‘‘. (سورة الإسراء: 299/3، قدیمی)
وفي روح المعاني:
’’قوله تعالى: ﴿وأوفوا بالعهد﴾ ما عاهدتم الله تعالى عليه من التزام تكاليفه وما عاهدتم عليه غيركم من العباد، ويدخل في ذلك العقود. وجوز أن يكون المراد: ما عاهدكم الله تعالى عليه وكلفكم به، والايفاء بالعھد والوفاء به هو القيام بمقتضاه، والمحافظة عليه، وعدم نقضه، واشتقاق ضدهـ وهو الغدر يدل على ذلك وهو الترك‘‘. (سورة الإسراء: 503/14، مؤسسة الرسالة)
وفي مشكاة المصابيح:
’’عن زيد بن أرقم عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئ لِلْمِيعَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ)) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَ التَّرْمِذِيُّ.
عن عبد الله بن عامر قال: دعتني أُمي يومًا ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدٌ في بيتنا فقالت: ھا تعال أعطِيك. فقال لھا رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((ما أردتِ أن تعطيه؟)) قالت: أردت أن أعطيه تمرًا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((أما إنك لو لم تعطيه شيئًا كُتبت عليك كذبة)). والبيھقي في ((شعب الإيمان))‘‘. (كتاب الأدب، باب الوعد: 199/2، دار الكتب العلمية بیروت).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:180/338

footer