اہلیہ کے طلائی زیورات پر شوہر کے حق تصرف کا شرعی حکم

اہلیہ کے طلائی زیورات پر شوہر کے حق تصرف کا شرعی حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی 15 جولائی 2009 کو انجام پائی، شادی لاہور میں ہوئی اور بعد ازاں رخصتی کر کے ہم کراچی میں رہائش پذیر ہیں میری اہلیہ کو اس کے میکہ کی طرف سے اور پھر میری طرف سے جو بھی طلائی زیورات شادی کے سلسلے میں ملے تھے، وہ تقریبا 7 سے 8 تولہ بنتے ہیں اور کیوں کہ میری اہلیہ کا کوئی اپنا ذاتی ذریعہ معاش تو ہے نہیں، لہذا ان تمام زیورات طلائی کی سالانہ زکوۃ جو کہ ہر سال نصاب کے مطابق بنتی رہی ہے میں اپنی آمدنی سے باقاعدگی سے ادا کر رہا ہوں، نیز یہ کہ میں نے اپنی اہلیہ کا حق مہر جو کہ عند الطلب تھا اور میں نے شادی کے کچھ عرصہ بعد Gold کی چوڑیوں کی صورت میں ادا کر دیا تھا، ان تمام زیورات کی زکوۃ بھی میں خود ادا کر رہا ہوں لہذا آپ سے یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ حق مہر کو چھوڑ کر بقیہ طلائی زیورات یا اس کی رقم کو میں اپنے کاروبار میں لگا سکتا ہوں؟ کیوں کہ اب مالی طور پر میں مستحکم نہیں ہوں اور زکوۃ ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں اور نصاب کے مطابق زکوۃ ادا کرنا مشکل ہے، لہٰذا اس مسئلہ کا تحریری جواب عنایت فرمایا جائے کہ میرا ان زیورات پر کتنا حق ہے کہ میں مستقل 14 سال تک زکوۃ ادا کرتا رہا ہوں اور بہ وقتِ ضرورت اسے استعمال کرسکوں۔

جواب

صورت مسئولہ میں چوں کہ آپ نے اپنی بیوی کی اجازت سے ان کے زیورات کی زکوۃ ادا کی ہے اور رقم واپس لینے کی کوئی شرط نہیں لگائی لہٰذا زکوۃ تو ادا ہوگئی ہے اور جو رقم آپ نے زکوۃ کی مد میں دی ہے، وہ آپ کی طرف سے احسان شمار ہوگا، محض زکوۃ ادا کرنے سے بیوی کے مال میں آپ کا کوئی حق ثابت نہیں ہوتا، البتہ اگر بیوی بخوشی آپ کو ان زیورات کو بیچ کر کاروبار کرنے اجازت دے، تو پھر آپ کے لیے اس رقم سے کاروبار کرنا جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔
لما في التنوير مع الدر:
’’(وشرط صحة أدائھا نية مقارنة له) أي: للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكمًا) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير، أو نوى عند الدفع للوكيل ثم دفع الوكيل بلا نية، أو دفعھا لذمي ليدفعھا للفقراء، جاز؛ لأن المعتبر نية الآمر‘‘. (كتاب الزكاة، مطلب في زكاة ثمن المبيع وفاء: 222/3، رشيدية)
وفي الفتاوى السراجية:
’’من أدى زكاة مال غيره من مال نفسه بأمر من عليه الزكاة جاز، بخلاف ما إذا أدى بغير أمره ثم أجاز‘‘. (كتاب الزكاة، باب نية الزكاة وكيفية الأداء، ص: 146، رشيدية)
وفي الفتاوى التاتارخانية:
’’وفي ”المنتقى“: رجل أمر رجلاً أن يؤدي عنه زكاة ماله فأداها، قال: يجوز عنه ولا يرجع على الآمر بما أدى، وفي ”الخانية“: ما لم يشترط الرجوع‘‘. (كتاب الزكاة، الفصل التاسع: 214/2، قديمي).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/227