
کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی کا سخت جھگڑا ہوگیا ہے، اب بیوی کہتی ہے کہ شوہر نے یہ یہ غلط باتیں کی ہیں، لیکن شوہر اس کا انکار کرتا ہے کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے، تو بیوی کیا اپنے شوہر سے قسم کا مطالبہ کرسکتی ہے کہ نہیں؟ شرعی نکتہ نظر کیا ہے؟
وضاحت : بیوی کے پاس شوہر کی طرف سے غلط باتیں کرنے پر کوئی گواہ نہیں ہے، جب کہ غلط باتوں سے مراد جھوٹے الزامات اور گالم گلوچ ہے۔
واضح رہے کہ مدعا علیہ سے قسم قاضی یا حکم لیتا ہے، لہٰذا عدالت یا جرگہ (پنچایت) کے ذریعے بیوی شوہر سے قسم لے سکتی ہے۔لما في الدر:’’(ويسأل القاضي المدعى عليه) عن الدعوى، فيقول: إنه ادعى عليك كذا، فماذا نقول: (وإلا) يبرهن، (حلفه) الحاكم (بعد طلبه)، إذ لا بد من طلبه اليمين في جميع الدعاوى، إلا عند الثاني‘‘. (كتاب الدعوى: 339/8، رشيدية)(وكذلك في البحر الرائق، كتاب الدعوى: 3/ 345،347، رشيدية)فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:180/60