کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بریلوی حضرات دوران اقامت بالخصوص ان کا امام جائے نماز پر بیٹھ جاتے ہیں، اور ”قد قامت الصلاۃ“ پر کھڑے ہوتے ہیں نماز کے لئے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
کسی حدیث میں بھی اس کا ذکر نہیں کہ اقامت کہنے والا اقامت کہتا رہے، اور سب لوگ بیٹھے رہیں، جب وہ ”قد قامت الصلاة“ کہے تو تب کھڑے ہوں، بلکہ احادیث سے یہی مستنبط ہوتا ہے کہ اقامت اور قیام ناس امام کے تابع ہیں، یہی وجہ ہے کہ احناف کی کتابوں میں اس کا ذکر ہے کہ امام جب باہر سے مسجد میں داخل ہو تو اگر صفوں کی طرف سے آئے تو جس صف سے گزرتا جائے وہ صف کھڑی ہوتی جائے، اور اگر سامنے کی جانب سے آئے تو اس کو دیکھتے ہیں سب کھڑے ہو جائیں، اس کے بارے میں حدیث میں کوئی حد معین ذکر نہیں، اس لئے جمہور علماء نے اس کے لئےکوئی حد متعین نہیں فرمائی، اور ابتداءا قامت سے کھڑے ہونے کو مستحب قرار دیا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اس پر تھا، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ”حی علی الفلاح“ کے وقت قیام کا استحباب منقول ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس وقت قیام مستحب ہے، اور اس سے پہلے خلاف مستحب، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے زیادہ تاخیر خلاف استحباب ہے، بہر حال کئی وجوہ معتبرہ کی بنیاد پر شروع اقامت سے کھڑا ہونا بہتر اور افضل ہے، اور اسی پر پوری دنیا کے مسلمانوں کا عمل ہے۔لما في بذل المجھود لشرح أبي داؤد:’’قال القرطبي: ظاهر الحديث إن الصلاة كانت تقام قبل أن يخرج النبي صلى الله عليه وسلم من بيته، وهو معارض؛ لحديث جابر بن سمرة: ”أن بلالا كان لا يقيم حتى يخرج النبي صلى الله عليه وسلم“ أخرجه مسلم. ويجمع بينھما: بأن: بلالا كان يراقب خروج النبي صلى الله عليه و سلم، فأول ما يراه يشرع في الإقامة قبل أن يراه غالب الناس، ثم إذا رأوه قاموا، فلا يقوم في مقامه حتى تعتدل صفوفھم، قلت: ويشھد له ما رواه عبد الرزاق عن بن جريج عن بن شھاب: أن الناس كانوا ساعة يقول المؤذن الله أكبر يقومون إلى الصلاة، فلا يأتي النبي صلى الله عليه و سلم مقامه حتى تعتدل الصفوف، وأما حديث أبي هريرة الآتي قريبا بلفظ: ”أقيمت الصلاة فسوى الناس صفوفھم، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم“ ولفظه في مستخرج أبي نعيم: ”فصف الناس صفوفھم، ثم خرج علينا“ ولفظه عند مسلم: ”أقيمت الصلاة فقمنا فعدلنا الصفوف قبل أن يخرج إلينا النبي صلى الله عليه وسلم فأتى فقام مقامه“ الحديث. وعنه في رواية أبي داود: ”أن الصلاة كانت تقام لرسول الله صلى الله عليه وسلم فيأخذ الناس مقامھم قبل أن يجيء النبي صلى الله عليه وسلم: ”فيجمع بينه وبين حديث أبي قتادة: بأن ذلك ربما وقع لبيان الجواز؛ وبأن صنيعھم في حديث أبي هريرة : كأن سبب النھى عند ذلك في حديث أبي قتادة؛ وأنھم كانوا يقومون ساعة تقام الصلاة، ولو لم يخرج النبي صلى الله عليه وسلم فنھاهم عن ذلك‘‘. (كتاب الصلاة، باب في الصلاة تقام ولم يأت الإمام ينتظرونه قعودا : 307/1، إمدادية)وفي البحر الرائق:’’قوله: (والقيام حين قيل حي على الفلاح)؛ لأنه أمر به فيستحب المسارعة إليه، أطلقه فشمل الإمام والمأموم إن كان الإمام بقرب المحراب، وإلا فيقوم كل صف ينتھي إليه الإمام، وهو الأظھر. وإن دخل من قدام وقفوا حين يقع بصرهم عليه‘‘. (كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة: 531/1، رشيدية)وفي حاشية الطحطاوى:’’والظاهر أنه احتراز عن التأخير لا التقديم، حتى لو قام أول الإقامة لا بأس به‘‘. (كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة: 215/1، دار المعرفة).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/123