اجتماعی طور پر جہراً ذکر کرنا

Darul Ifta

اجتماعی طور پر جہراً ذکر کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے زمانے میں یہ مروج ہے کہ پیر حضرات اپنے مریدین ومتعلقین کو جمع کر کے مسجد میں یا خانقاہ میں جہراً ذکر کرتے ہیں۔ کیا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تابعین یا تبع تابعین رحمہم اللہ سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ خصوصا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر فقہائے احناف سے اس کا ثبوت ملتا ہے کہ نہیں؟

جواب

ذکر کرنا ہر طریقہ سے جائز ہے، خواہ سراً ہو یا جہراً، خواہ انفرادا ہو یا اجتماعا، البتہ جہری ذکر کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، کہ کسی نمازی کی نماز میں، سونے والے کی نیند میں اور تلاوت کرنے والے کی تلاوت میں کوئی خلل واقع نہ ہو اور اسی طرح جہر نہایت زور سے بھی نہ ہو اگر مندرجہ بالا امور میں سے کوئی امر بھی پایا جائے تو جہر کے ساتھ ذکر کرنا جائز نہ ہوگا۔
لہذا جس مسجد یاخانقاہ  میں شیوخ حضرات اپنے مریدین کو جمع کر کے ذکر جہری کرتے ہیں وہ جائز ہے بشرطیکہ مندرجہ بالا امور کا خیال رکھا جائے اور اس کو لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے کہ شریک نہ ہونے والوں کو ملامت کریں۔البتہ آج کل مساجد کو لاؤڈ اسپیکر وغیرہ میں جو ذکر ہوتا ہے اس کی شرعا کوئی گنجائش نہیں ہے۔
لما في التنزیل:
قال اللہ تعالیٰ: ”واذكر ربك فى نفسك تضرعا وخيفة ودون الجھر من القول“. (سورة الأعراف، رقم الآیۃ:205)
وفي مشکاۃ المصابیح:
”عن أبى ھريرة وأبي سعيد قالا: قال رسول صلى الله عليه وسلم: لا يقعد قوم يذكرون الله إلا حفتھم الملائكة وغشيتھم الرحمة، ونزلت عليھم السكينة، وذكرھم الله في من عنده رواه مسلم..... وعن أبي ھريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول الله تعالى: أنا عند فلن عبدي بي، وأنا معه إذا ذكرني، فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، وإن ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منھم. متفق عليه“.(باب ذكر الله عزوجل والتقرب اليه: 196، قديمي)
وفي الشامیۃ:
”أجمع العلمآء سلفًا وخلفًا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرھا إلا أن يشوش جھرھم على نائم أو مصل أو قارئ الخ“. (مطلب في رفع الصوت بالذكر، 660/1، سعيد).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:58/280

footer