
کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چھ بھائی ہیں، والدین بھی زندہ ہیں، اور ہم میں سے پانچ بھائی شادی شدہ ہیں اور سب کی اولاد بھی ہے، اور چھٹے بھائی کی بھی شادی ہونے والی ہے ، ہمارے بھائیوں کے والد صاحب کے ساتھ ہمیشہ جھگڑے ہوتے رہتے ہیں اور اس کی بنیادی چند وجوہات ہیں:
بات یہ ہے کہ والد صاحب کا ایک باغ ہے اور کچھ مال مویشی ہیں، جن کی تعداد ساٹھ (60) ستر (70) کے درمیان ہے، اس کے علاوہ ہمارا کوئی ذریعہ معاش نہیں، باغ اور مویشی سے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے وہ ساری والد صاحب اپنی جیب میں ڈال دیتے ہیں، اور اس میں سے ہمیں ایک روپیہ بھی نہیں دیتے، اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ باغ اور مویشی کو تم بھائیوں نے ہی سنبھالنا ہے، اور اس پر جو خرچہ آتا ہے وہ بھی تم نے دینا ہے، اور گھر کا جتنا خرچہ آتا ہے وہ بھی ہم بھائی ادا کرتے ہیں، والد صاحب گھریلو اخرجات کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں دیتے، اور ہم بھائیوں میں سے جو بھی کمانے کے لیے جاتا ہے، تو والد صاحب اسے کمانے کے لیے نہیں چھوڑتے، اور جب چاہے تو سخت گالیاں دیتے ہیں اور بددعائیں بھی دیتے ہیں، اب ہم حیران ہیں کہ اگر والد صاحب کا کہا مانیں تو بیوی بچوں کا نان نفقہ اور خرچہ کہاں سے لائیں، اور اگر نہیں مانتے، تو والد صاحب ناراض ہوتےہیں اور بد دعائیں دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری زندگی بہت تنگ ہو چکی ہے، والد صاحب کو طرح طرح سمجھایا مگر وہ سمجھتے نہیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورت میں ہم میں سے اگر کوئی بھائی اپنے بچوں کے نان و نفقہ کی خاطر والد صاحب سے الگ ہو کر زندگی گزارے تو کیا شرعا یہ جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ والد صاحب مالی طور پر ہمارےمحتاج نہیں اور جسمانی خدمت کے لیے ہم ہر وقت تیار ہیں، اور اگر بد دعا دیں تو بجا ہیں یا نہیں؟
واضح رہے کہ بالغ سمجھدار اولادا گر والدین سے الگ رہنا چاہے، تو والدین ان کو اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکتے، لیکن ملحوظ رہے کہ علیحدہ رہائش رکھنے کی صورت میں بھی لڑکے کے ذمے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک واجب ہو گا، خصوصا جب کہ والدین خدمت یا نفقہ کے محتاج ہوں، تو بیٹے کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ کچھ وقت نکال کر والدین کی خدمت کے امور سر انجام دے اور ان کے نفقے کا انتظام کرے۔
لہذا آپ لوگوں کے لیے والدین کی مالی اور جانی خدمت کو مد نظر رکھتے ہوئے الگ زندگی گزار ناشر عا جائز ہے، اور والد صاحب کا بددعا دینا بجا نہیں ہے۔لما في المبسوط للسرخسي:’’ثم الغلام إذا بلغ رشيدا فله أن ينفرد بالسكني، وليس للأب أن يضمه إلى نفسه إلا أن يكون مفسدا مخوفا عليه فحينئذ له أن يضمه إلى نفسه اعتبارا لنفسه بماله؛ فإنه بعد ما بلغ رشيدا لا يبقى للأب يد في ماله فكذلك في نفسه، وإذا بلغ مبذرا كان للأب ولاية حفظ ماله فكذلك له أن يضمه إلى نفسه أما؛ لدفع الفتنة، أو لدفع العار عن نفسه؛ فإنه يعير بفساد ولده‘‘. (كتاب النكاح، باب حكم الولد عند افتراق الزوجين: 383/5، دار الفكربیروت).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:180/11