احرام کی حالت میں ملتزم سے چمٹنا

Darul Ifta

احرام کی حالت میں ملتزم سے چمٹنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ احرام کی حالت میں ملتزم سے چمٹنے کا کیا حکم ہے، کیا جو خوشبو ملتزم پر لگائی جاتی ہے، ملتزم سے چمٹنے سے وہ بدن پر آئے گی اور جز لازم ہوگی یا نہیں؟

جواب

خوشبو لگے ہونے کی حالت میں ملتزم کو چھونے یا چمٹنے سے گریز کیا جائے، بصورت دیگر خوشبو  اگر ایک کامل عضو (مثلاً: پورے ہاتھ یا پوری ہتھیلی) کو یا اس سے زائد حصہ جسم کو لگ گئی، تو دم لازم آئے گا، اور اگر ایک عضو سے کم حصے پر لگی ہو، تو صدقہ واجب ہو گا۔
لما في الدر:
’’(الواجب دم على محرم بالغ)...... (ولو ناسيا) أو جاهلا أو مكرها..... (إن طيب عضوا) كاملا، ولو فمه بأكل طيب كثير أو ما يبلغ عضوا لو جمع، والبدن كله كعضو واحد إن اتحد المجلس، وإلا فلكل طيب كفارة. (كتاب الحج، باب الجنايات: 651/3، رشيدية)
(وكذا في بدائع الصنائع، كتاب الحج، فصل فيما يرجع إلى الطيب: 217/3، دار الكتب).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:180/269

footer