دائن کی وفات کے بعد مقروض سے قرض کی وصولی

Darul Ifta

دائن کی وفات کے بعد مدیون (مقروض) سے قرض کی وصولی

سوال

کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا عمرو پہ ایک لاکھ قرضہ تھا، ابھی عمرو مدیون نے وہ قرضہ ادا نہیں کیا تھا کہ دائن کا انتقال ہوگیا، اب اس نے ایک زوجہ اور تین بچے (ایک بیٹا اور دو بیٹیاں) چھوڑے جن کی عمر 5 یا 6 سال ہے اور میت کے والدین بھی فوت ہوچکے ہیں، اس صورت میں میت (دائن) کی زوجہ، عمرو (مدیون) کو اجازت دیتی ہے کہ آپ قرضہ میت کے بھائی یعنی زوجہ کے دیور کو ادا کریں اور ہمارے اوپر خرچ کرے گا، اس کے کہنے کے مطابق عمرو نے قرضہ میت کے بھائی کو دینا شروع کیا ابھی پچاس ہزار ادا ہوئے تو زوجہ نے بقیہ قرضہ میت کے بھائی کو دینے سے منع کردیا، لیکن میت کا بھائی قرضہ لینے پہ مصر ہے کہ بقایا بھی اسے دیا جائے، اس صورت میں عمرو مدیون نے بقیہ قرض بھی میت کے بھائی کو دیا، تو کیا اس کی طرف سے قرضہ ادا ہو جائے گا؟ جب کہ میت کی زوجہ الگ سے مطالبہ کر رہی ہو، تو کیا اس کا مطالبہ کرنا درست ہوگا؟

جواب

 واضح رہے کہ شوہر کے انتقال کے بعد شرعا جو بیوہ کا متروکہ مال میں سے حصہ بنتا ہے اس کا مطالبہ کر سکتی ہے اس سے زیادہ کا نہیں، باقی رہی بات چھوٹے بچوں کی تو صورت مسئولہ میں چونکہ باپ دادا وغیرہ میں کوئی موجود نہیں، لہذا اگر باپ یا دادا نے چچا کو وصی مقرر کیا ہو، یا خاندان کے لوگوں نے چچا ہی کو سرپرست مقرر کیا ہو یا اس کے علاوہ کوئی نہ ہو تو چچا کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ چھوٹے بچوں کے مال کو مکمل امانت داری کے ساتھ ان ہی کی ضروریات میں صرف کرے بچوں کی ضروریات کے علاوہ اور اعتدال سے زائد خرچ کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔
لما في التنوير مع الدر:
’’(والولاية في مال الصغير إلى الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه) إذ الوصي يملك الإيصاء (ثم إلى) الجد (أبي الأب ثم إلى وصيه) ثم وصي وصيه (ثم إلى القاضي ثم إلى من نصبه القاضي) ثم وصي وصيه (وليس لوصي الأم) ووصي الأخ (ولاية التصرف في تركه الأم مع حضرة الأب أو وصيه أو وصي وصيه أو الجد) أبي الأب‘‘. (كتاب الوكالة: 305/8، رشيدية)
وفي البحر :
’’الولاية في مال الصغير إلى الأب ووصيه ثم وصي وصيه ثم إلى أب الأب ثم إلى وصيه ثم إلى القاضي ثم إلى من نصبه القاضي فليس لوصي الأم ولاية التصرف في تركه الأم مع حضرة الأب أو وصيه أو وصي وصيه أو الجد وإن لم يكن واحد ممن ذكرنا فله الحفظ‘‘. (كتاب الوكالة: 301/7، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:180/289

footer