پیشاب کے قطروں کی کتنی مقدار معاف ہے؟

پیشاب کے قطروں کی کتنی مقدار معاف ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے پیشاب کے قطروں کی بیماری ہے (قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد) 15 سال کی عمر سے اور ابھی میری عمر 18 سال 7ماہ ہے۔
پہلے سال میں (یعنی 15 سال میں) قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد 2 قطرے تو تقریبا گرتے ہی تھے اور میں دن میں تقریبا 4 دفع قضائے حاجت کے لیے جاتا تھا، اور کپڑے دو دن میں بدلتا تھا (بغیر پاکی دور کیے) یہ بات تھی پہلے سال کی۔
پھر اگلے سالوں میں مجھے معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر ٹشو سے صاف کرلینا چاہیے، تو پھر میرا ایک ہی قطرہ نکلتا ہے زیادہ سے زیادہ چلنے پر یا زور لگنے پر اور کبھی کبھار نہیں بھی گرتے۔اور مجھے صحیح مقدار معلوم نہیں تھی کہ اتنی مقدار کے بعد نماز قبول نہیں۔
پھر مجھے اس سال معلوم ہوا ہے کہ اتنی مقدار کے بعد قبول نہیں تو اب مجھ پر کیا حکم ہے کہ نمازیں دھرانی پڑھیں گے یا نہیں؟ اور اگر دھرانی پڑھیں گی تو کس طرح حساب لگائیں۔اور اس کے علاج کے بارے میں بھی کچھ ارشاد فرمادیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب آپ کو یقین تھا کہ پیشاب کے قطرات نکلتے ہیں اور یہ سلسلہ سوال میں بتائی ہوئی مدت تک جاری ہے تو جو نماز ایسی حالت میں پڑھی ہو کہ وضو کرنے کے بعد قطرات لگنے سے ناپاکی کی مقدار ایک درہم (ہتھیلی کی گولائی) سے زیادہ ہو، اس نماز کی قضاء ضروری ہے۔ اور اگر ناپاکی کی مقدار اس سے کم ہو تو پڑھی گئی نمازوں کی قضاء لازم نہیں۔
قضاء کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب سے یہ عذر لاحق ہوا ہے اس وقت کی ابتدائی نمازوں کی قضاء شروع کریں، یا ایسی حالت میں پڑھی ہوئی آخری نماز سے قضاء شروع کریں، اور فوت شدہ نماز (جب کسی کے ذمہ زیادہ تعداد میں ہو گئی ہو) کی نیت اس طرح کریں مثلا: پہلی ظہر کی نماز ادا کر رہا ہوں جو میرے ذمہ باقی ہے، اور باقی نمازوں میں بھی یہی طریقہ اختیار کرے۔
اس بیماری کا علاج یہ ہے کہ ہر نماز سے آدھا پون گھنٹہ پہلے قضاء حاجت سے فارغ ہو جائیں، اور جہاں قطرات لگے ہوں، اُسی جگہ کو دھولیں، نماز سے پانچ دس منٹ پہلے وضو بنا لیں اور قطرات کی طرف دھیان نہ دیں۔
لما في بدائع الصنائع:
”وأما النجاسة الكثيرة فتمنع جواز الصلاة، واختلفوا في الحد الفاصل بين القليل والكثير من النجاسة، قال إبراهيم النخعي: إذا بلغ مقدار الدرهم فھو كثير، وقال الشعبي: لا يمنع ، حتى يكون أكثر من قدر الدرهم الكبير ، وهو قول عامة العلماء، وهو الصحيح؛ لما روينا عن عمر رضي الله عنه، أنه عد مقدار ظفر من النجاسة قليلا، حيث لم يجعله مانعا من جواز الصلاة، وظفره كان قريبا من كفنا فعلم أن قدر الدرهم عفو؛ ولأن أثر النجاسة في موضع الاستنجاء عفو، وذلك يبلغ قدر الدرهم خصوصا في حق المبطون، ولأن في ديننا سعة، وما قلناه أوسع فكان أليق بالحنيفية السمحة، ثم لم يذكر في ظاهر الرواية صريحا أن المراد من الدرهم الكبير، من حيث العرض والمساحة، أو من حيث الوزن وذكر في النوادر: الدرهم الكبير: ما يكون عرض الكف وهذا موافق لما روينا من حديث عمر رضي الله عنه لأن ظفره كان كعرض كف أحدنا، وذكر الكرخي مقدار مساحة الدرهم الكبير، وذكر في كتاب الصلاة الدرهم الكبير المثقال فھذا يشير إلى الوزن، وقال الفقيه أبو جعفر الھندواني: لما اختلفت عبارات محمد في هذا فنوفق ونقول: أراد بذكر العرض تقدير المائع، كالبول والخمر ونحوهما، ويذكر الوزن تقدير المستجسد كالعذرة ونحوها، فإن كانت أكثر من مثقال ذهب وزنا تمنع؛ وإلا فلا، وهو المختار عند مشايخنا بما وراء النھر وأما حد الكثير من النجاسة الخفيفة فھو الكثير الفاحش“. (كتاب الطھارة : 429/1، رشيدية)
وكذا في الجوهرة النيرة:
’’تطھير النجاسة واجب من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه‘‘. (كتاب الطھارة، باب الأنجاس: 55، البشرى)
وفيه أيضاً:
’’ومن أصابه من النجاسة المغلظة كالدم والبول والغائط والخمر مقدار الدرهم فما دونه جازت الصلاة معه فإن زاد لم تجز‘‘.
وتحته:
’’(قوله: مقدار الدرهم) يعني المثقال الذي وزنه عشرون قيراطا ثم قيل المعتبر بسط الدرهم من حيث المساحة، وقيل وزنه والتوفيق بينھما أن البسط في الرقيق والوزن في الثخين‘‘. (كتاب الطھارة، باب الأنجاس: 59، البشرى)
وفيه أيضاً:
’’ومن فاتته الصلاة قضاها إذا ذكرها وقدمھا لزوما على صلاة الوقت إلا أن يخاف فوات صلاة الوقت فيقدم صلاة الوقت ثم يقضيھا فإن فاتته صلوات رتبھا في القضاء كما وجبت في الأصل إلا أن تزيد الفوائت على ست صلوات فيسقط الترتيب فيھا‘‘. (كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، 102،103، البشرى).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/311