خطبہ جمعہ طویل کرنے اور نماز مختصر کرنے کا حکم

خطبہ جمعہ طویل کرنے اور نماز مختصر کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازجمعہ میں خطبہ کا طویل کرنا اور نماز کا مختصر کرنا کیسا ہے؟ شرعی اعتبار سے رہنمائی کر کے مشکور وممنون فرمائیں۔

جواب

خطبہ جمعہ مختصر ہونا چاہیے، اسے طوال مفصل کی سورت سے زیادہ طویل نہ کیا جائے، تطویل کی عادت بنا لینا مکروہ ہے، اگر کبھی کبھار ایسا ہو جائے تو مضائقہ نہیں، جب کہ نماز میں مسنون قراء ت کا اہتمام کرنا چاہیے، چوں کہ جماعت کی نماز میں تخفیف مطلوب ہوتی ہے، لہذا وقت کی اور نمازیوں وغیرہ کی رعایت کرتے ہوئے مناسب اختصار کرلے، تو بھی حرج نہیں۔
لما في الدر مع الرد:
’’(ويسن خطبتان) خفيفتان، وتكره زيادتھما على قدر سورة من طوال المفصل‘‘.
وتحته في الرد:
’’قوله:(وتكره زيادتھما الخ) عبارة القھستاني: وزيادة التطويل مكروهة‘‘. (كتاب الصلاة، باب الجمعة، مطلب في نية آخر.....: 23/3، رشيدية)
(وكذا في البحر الرائق، كتاب الصلاة باب صلاة الجمعة: 259/2، رشيدية)
وفی الدر مع الرد:
’’قرأ بعدها وجوبا (سورة أو ثلاث آيات) ولو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاث آيات قصار انتفت كراهة التحريم ذكره الحلبي. ولا تنتفي التنزيھية إلا بالمسنون،
وفي الرد:
قوله: (إلا بالمسنون) وهو القراءة من طوال المفصل في الفجر والظھر، وأوساطه في العصر والعشاء، وقصاره في المغرب‘‘. (کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مطلب قراءة البسملة.....: 237/2، رشيدية)
وفیہ أیضاً:
’’واختار في البدائع عدم التقدير، وأنه يختلف بالوقت والقوم والإمام‘‘.
وفي الرد:
’’قوله: (واختار في البدائع عدم التقدير إلخ) وعمل الناس اليوم على ما اختاره في البدائع..... والجملة فيه أنه ينبغي للإمام أن يقرأ مقدار ما يخف على القوم، ولا يثقل عليھم بعد أن يكون على التمام، وهكذا في الخلاصة‘‘. (الدر مع الرد، كتاب الصلاة، فصل في القراءة، مطلب السنة تكون..... 320/2، رشيدية)
وفیہ أیضاً:
’’(و) يكره تحريما (تطويل الصلاة) على القوم زائدا على قدر السنة‘‘. (كتاب الصلاة، باب الإمامة، مطلب إذا صلى الشافعي......: 364/2، رشيدية)
وفی البحر:
’’وأما في عدد الآيات ففي الجامع الصغير أن الظھر كالفجر في العدد لاستوائھما في سعة. الوقت، وقال في الأصل أو دونه، لأنه وقت الاشتغال، فينقص عنه تحرزا عن الملال‘‘. (كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة: 595/1، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/174