کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس دوز مینیں ہیں، ان دوز مینوں میں سے ایک پر درختوں کا باغ ہے جبکہ دوسری زمین سادہ ہے یعنی صرف کھیت زراعت وغیرہ کے لئے ہے، اب دوسرے شخص نے دونوں زمینوں کو چند سالوں یعنی 5 سال کے لئے اجارہ پر لیا، ہر سال پورا ہونے پر مالک زمین کو 3 لاکھ روپیہ دے گا، تردد اس میں ہے کہ اس جیسے باغ کو اجارہ پر لینا جائز ہے جبکہ اس باغ کے ساتھ دوسری سادہ زمین بھی ہو یا نہیں؟
واضح رہے کہ خالی زمین کو زراعت وغیرہ کے لئے اجارہ پر لینا درست ہے، جبکہ باغ کو اجارہ پر لینا درست نہیں، اور صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے دونوں زمینوں کو ایک ہی عقد میں جمع کر کے مجموعی طور پر دونوں کے لئے اجرت متعین کی ہے۔
لہذاند کوره عقد اجارہ فاسد ہے، اور اجارہ فاسد کا حکم یہ ہے کہ اس کو فوری طور پر ختم کیا جائے، اور مستاجر (اجرت پر لینے والے) نے مذکورہ زمینوں سے جتنی مدت نفع حاصل کیا ہے، تو باغ کے بدلے پھلوں کی قیمت اور خالی زمین کے بدلے اجرت مثل (اس جگہ میں عام تاجروں کے ہاں اس جیسی زمین کی جو اجرت ہوگی) لازم ہوگی۔لمافي الدر:’’(الفاسد) من العقود (ما كان مشروعا بأصله دون وصفه.... (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل)‘‘. (باب الإجارة الفاسدة، 75/9، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/140