دو شریکوں کا دو عدد فلیٹ ٹھیکے پر لینا

دو شریکوں کا دو عدد فلیٹ ٹھیکے پر لینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم دو شریکوں نے دو عدد فلیٹ ٹھیکے پر لیے ہیں، مالک مکان کو ڈھائی لاکھ روپے ایڈوانس کی مد میں دیے ہیں، اور ہر مہینے کی 10 تاریخ کوتین لاکھ پچاس ہزار روپے دینے ہیں، ہم نے وہ فلیٹ مختلف اجارے پر دیا ہے، مالک مکان نے پانی، موٹر، بجلی اور گیس وغیرہ صحیح کر کے دیا ہے، اور اس کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ ایگریمنٹ (معاہدہ) پورا ہونے پر مجھے بھی صحیح کر کے دیں گے، دوسری بات پانی کی ٹوٹی، دروازے اور کچن میں موجود لکڑیاں ٹوٹنے کی صورت میں مرمت کر کے دینا ہے، قدرتی آفت وغیرہ یعنی بلڈنگ گرنے یا اور کسی قدرتی آفت کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے۔ براہ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں دو عقد ہوئے ہیں:
پہلا عقد: مالک مکان اور مستاجر کے درمیان ہوا ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ مکان کے مالک کا معاہدہ مکمل ہونے کی صورت میں مذکورہ اشیاء (پانی کا نل، دروازے اور کچن میں لکڑیاں) کی مرمت کا مطالبہ اس وقت درست ہو گا، جب یہ مذکورہ اشیاء کرایہ دار کی غفلت وزیادتی سے خراب یا ٹوٹ جائیں، وگرنہ نہیں۔
دوسرا عقد: مستاجر اول اور کرایہ دار کے درمیان ہوا ہے ، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مذکورہ فلیٹ میں کسی بھی قسم کی کوئی مرمت یا اصلاح کا کام کروایا ہے، مثلا: رنگ و روغن، گیس، اور بجلی وغیرہ کا کام، تو اس فلیٹ کو آگے تین لاکھ پچاس ہزارروپے سے زیادہ کا کرایہ پر دینا درست ہے۔ اگر فلیٹ میں کسی قسم کا کوئی بھی کام نہیں کروایا، تو مذکورہ فلیٹ کوتین لاکھ پچاس ہزار روپے سے زیادہ کا کسی دوسرے کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے، اگر دے دیا تو اضافی رقم صدقہ کرنا ضروری ہے۔
لما في التنوير مع الدر:
”(للمستأجر أن يواجر المؤجر ) بعد قبضه، قيل: وقبله“.
وتحته:
’’قوله: (للمستأجر أن يؤجر المؤجر الخ) أي: ما استأجره بمثل الأجرة الأولى أو بأنقص، فلو بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين كما مر أول باب ما يجوز من الإجارة‘‘.(كتاب الإجارة، مطلب في إجارة المستأجر للموجر ولغيره، 152/9، رشيدية)
وفي التنوير مع الرد:
’’(ولا يضمن ما هلك في يده وإن شرط عليه الضمان) لأن شرط الضمان في الأمانة باطل كالمودع (وبه يفتى) كما في عامة المعتبرات و به جزم أصحاب المتون فكان هو المذهب‘‘.
’’قوله: (ولا يضمن الخ) اعلم أن الھلاك إما بفعل الأجير أو لا، والأول إما بالتعدي أو لا. والثاني إما أن يمكن الاحتراز عنه أو لا ففي الأول بقسميه يضمن اتفاقا. وفي ثاني الثاني لا يضمن اتفاقا وفي أوله لا يضمن عند الإمام مطلقا ويضمن عندهما مطلقا. وأفتى المتأخرون بالصلح على نصف القيمة مطلقا، وقيل: إن مصلحا لا يضمن وإن غير مصلح ضمن‘‘. (كتاب الإجارة، 109/9، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/154