کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جنوبی وزیرستان گاؤں اسپاس میں آپریشن سے پہلے بیس سال سے مسلسل نماز جمعہ اور عیدین پڑھائی جاتی تھی، متاثر ہونے کے بعد چند سالوں سے یہ علاقہ دوبارہ آباد ہوا، جس کی نوعیت اب یہ ہے کہ یہاں پر دو سو سے لے کر تین سو تک گھر موجود ہیں، یہاں پندرہ سے بیس دوکانیں موجود ہیں اور یہاں زندگی کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، مثلاً میڈیکل اسٹور اور ڈاکٹر موجود ہیں، موچی، صالون وغیرہ وغیرہ موجود ہیں، عورتیں گھروں میں کپڑوں کی سلائی کرتی ہیں۔
اب بعض مقامی علماء کرام فرماتے ہیں کہ یہاں نماز جمعہ نہیں ہوتی، جبکہ نماز عید یہ علماء کرام پڑھاتے ہیں، اس جگہ نماز جمعہ پڑھنے کا حکم تفصیلا بتائیں، تحریری فتوی کی ضرورت ہے۔
نماز جمعہ وعیدین کی صحت وجواز کے لیے حضرات احناف رحمہم اللہ نے مصر، فناء مصر یا قصبہ کا ہونا شرط قرار دیا ہے، جبکہ یہ قریہ صغیرہ میں حضرات احناف رحمہم اللہ کے نزدیک نماز جمعہ وعیدین جائز نہیں، البتہ قریہ کبیرہ میں چند شرائط وعلامات موجود ہونے کی وجہ سے نماز جمعہ وعیدین جائز ہے۔
عصر حاضر میں نماز جمعہ وعیدین کے جواز اور صحت کے لیے حضرات رحمہم اللہ نے کچھ علامات وشرائط ذکر کی ہیں کہ اس قریہ کی آبادی چار ہزار یا اس سے زیادہ ہو، مختلف محلے ہوں، گلی کوچے ہوں، پختہ مکانات کافی تعداد میں بنائے گئے ہیں، کثرت سے دکانیں ایک ساتھ متصل جو بازار کی شکل میں ہوں، ضروریات زندگی کے لیے گاؤں کے رہائش پزیر لوگوں کے علاوہ قرب وجوار کے لوگ اس قریہ کی طرف رجوع کرتے ہوں۔
لہذا ان شرائط وعلامات کے اعتبار سے مذکورہ گاؤں (اسپاس) میں بظاہر نماز جمعہ درست نہیں، لیکن صرف تحریر دیکھ کر اس علاقے کا مشاہدہ کیے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، لہذا علاقے والے کسی ایسےمستند مفتی صاحب جو فقہ اور فتوی میں مہارت رکھتے ہوں ان کو اس علاقے کا مشاہدہ کرائیں، اور ان کی رائے پر عمل کریں۔لما في الدر المختار:’’(ويشترط لصحتھا) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بھا) وعليه فتوى أكثر الفقھاء... وعبارة القھستاني: تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيھا أسواق، قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة... أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيھا قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات، والظاهر أنه أريد به الكراهة؛ لكراهة النفل بالجماعة، ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمھم أداء الظهر‘‘. (كتاب الصلاة، باب الجمعة: 6/3، رشيدية)وفي المبسوط:’’وظاهر المذهب في بيان حد المصر الجامع: أن يكون فيه سلطان، أو قاض لإقامة الحدود وتنفيذ الأحكام. وقد قال بعض مشايخنا رحمھم الله تعالى: أن يتمكن كل صانع أن يعيش بصنعته فيه ولا يحتاج فيه إلى التحول إلى صنعة أخرى‘‘. (كتاب الصلاة، باب الجمعة: 22/1، الحبيبية)وفي الدر:’’(تجب صلاتھا) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطھا) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنھا سنة بعدها‘‘. (كتاب الصلاة، باب العيدين: 15/3، رشيدية)وفي حاشية الطحطاوي:’’وأن تكون الإقامة ”بمصر“ خرج به المقيم بقرية؛ لقوله عليه السلام: ”الجمعة حق واجب على كل مسلم في جماعة، إلا أربعة مملوك، أو امرأة، أو صبي، أو مريض“... ولم ينقل عن الصحابة رضي الله عنھم أنھم حين فتحوا البلاد اشتغلوا بنصب المنابر والجمع، إلا في الأمصار دون القرى ولو كان الثقل، ولو أحادا‘‘. (كتاب الصلاة، باب الجمعة، ص:504، رشيدية)وفي غنبة المتملي:’’وأما شروط الأداء فستة أيضا الشرط الأول المصر أو فناءه، فلا تجوز في القرى عندنا‘‘. (کتاب الصلاة، فصل في الجمعة، ص:549، رشيدية)وفي البحر الرائق:’’ولو أن إماما مصر مصرا ثم نفر الناس عنه الخوف عدو أو ما أشبه ذلك ثم عادوا إليه فإنھم لا يجمعوا إلا بإذن مستأنف من الإمام‘‘.وفي خلاصة الفتاوى:’’والصحيح أنه مبني على أنھا تتمصر في أيام الموسم عندهما لأن لھا بناء وتنقل إليھا الأسواق ويحضرها وال وقاض بخلاف عرفات لأنھا مفازة فلا تتمصر باجتماع الناس وحضرة السلطان.... تخصيص جوازها بأيام الموسم وأنھا تصير مصرا في تلك الأيام وقرية في غيرها‘‘. (كتاب الصلاة، الفصل الثلث والعشرون في صلاة الجمعة: 208/1، امير حمزه).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/100