کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے مدرسہ بنانے کی نیت سے ذاتی جگہ خریدی اور وہاں تعمیر بھی شروع کردی مدرسہ ابھی زیر تعمیر ہی تھا کہ الحمد للہ وہاں تعلیم کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا اور بیرونی طلباء بھی وہاں رہنے لگ گئے بیرونی طلباء کے قیام وطعام کی ضروریات مدرسے سے پوری کی جاتی ہیں۔
ان طلباء کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چوں کہ چندے کی ضرورت ہوتی ہے، تو میں مختلف جگہوں سے مدرسے کے لیے چندہ جمع کرتا ہوں، جس میں عشر، زکوۃ، فطرانہ اور دیگر عطیات شامل ہوتے ہیں ،تو کیا صاحبِ مدرسہ کا اس طرح لوگوں سے مدرسے میں چندہ دینے کے لیے کہنا اور لوگوں کا چندہ دینا جائز ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں صاحب مدرسہ کا لوگوں کو چندہ دینے کے لیے کہنا جائز ہے۔لما في سنن الترمذي:”عبد الرحمن بن خباب رضي الله عنه، قال : شھدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي مائة بعير بأحلاسھا وأقتابھا في سبيل الله، ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي مائتا بعير بأحلاسھا وأقتابھا في سبيل الله، ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله لله علي ثلاث مائة بعير بأحلاسھا وأقتابھا في سبيل الله، فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر وهو يقول: ما على عثمان ما عمل بعد هذه، ما على عثمان ما عمل بعد هذه. (ابواب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان، رقم:3700، دار السلام)وفي الدر مع الرد:”وكره نقلھا إلا إلى قرابة، أو أحوج، أو أصلح، أو أورع، أو أنفع للمسلمين...... وفي المعراج: التصدق على العالم الفقير أفضل“. (كتاب الزكوة، باب المصرف، 353/2، سعيد)وفي الفتاوى الھندية:”وفي الذخيرة: رجل أعطى درهما في عمارة المسجد أو نفقة المسجد أو مصالح المسجد، صح“. (كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به الفصل الثاني، 2/ 460، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/250