کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیٹی اپنے بڑے بھائی کو دی ہے، تاکہ وہ اس کو پال لے، اس لیے کہ بڑے بھائی کی اولاد نہیں ہے، تو اب پوچھنا یہ کہ اس بچی کی نسبت بڑے بھائی کے لیے اپنی طرف کرنا درست ہے یا نہیں؟ کا غذات وغیرہ میں اس نے اس بچی کو اپنی طرف منسوب کر دیا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ کسی اور کی بیٹی کو لے پالک بنانے کی شرعا گنجائش تو ہے، لیکن اس پر حقیقی بیٹی والے احکام جاری نہیں ہوں گے، یعنی یہ بچی اپنے اصل والد کی وارث ہو گی، گود لینے والےشخص کی نہیں، نیز گود لینے والا اگر محرم رشتہ دار نہیں ہو، تو بچی کے بالغ ہونے کے بعد اس سے پردہ لازم ہوگا۔
بچی کے نام کے ساتھ حقیقی والد کے علاوہ کسی دوسرے کا نام لکھنا، اندراج کروانا اور پکار نا، اس کے بارے میں احادیث مبارکہ میں بہت سخت وعیدیں آئی ہیں، ایک حدیث میں جنت سے محرومی اور ایک حدیث میں لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، اس لئے اس سے احتراز کرنا ضروری ہے۔لما في روح المعاني:’’﴿وما جعل أدعياءكم أبناءكم﴾ إبطال لما كان في الجاهلية أيضا وصدر من الإسلام من أنه إذا تبنى الرجل ولد غيره أجريت أحكام البنوة عليه، وقد تبنى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم قبل البعثة زيد بن حارثة، والخطاب عامر بن ربيعة، وأبو حذيفة مولاه سالما إلى غير ذلك‘‘. (سورة الأحزاب، الآيه:4، ج: 188/21، مؤسسة الرسالة)وفي الصحيح للبخاري:’’حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة عن عاصم قال: سمعت أبا عثمان قال: سمعت سعدا- وهو أول من رمى بسھم في سبيل الله -وأبا بكرة– وكان تسور حصين الطائف في أناس فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم- فقالا: سمعنا النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم فالجنة عليه حرام، وقال هشام وأخبرنا معمر عن عاصم عن أبي العالية أو أبي عثمان النھدي قال: سمعت سعدا وأبا بكرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال عاصم: قلت لقد شھد عندك رجلان حسبك بھما، قال: أجل أما أحدهما فأول من رمى بسھم في سبيل الله وأما الآخر فنزل إلى النبي صلى الله عليه وسلم ثالث ثلاثة وعشرين من الطائف‘‘. (كتاب المغازي، باب غزوة الطائف: 732، دار السلام)وفي سنن ابن ماجه:حدثنا أبو بشر بكر بن خلف، ثنا ابن أبي الضيف ، ثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من انتسب إلى غير أبيه، أو تولى غير مواليه، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين“. (كتاب الحدود، باب من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه: 472، دار السلام).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/167