کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ “PUBG” گیم کھیلنا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ اس وقت اس میں اکثر عوام مبتلا ہیں اور ہر طبقہ کے لوگ یہ گیم کھیلتے ہیں اور یہ گیم آن لائن کھیل ہے، اور اس میں ہر ملک کی اپنی اپنی کرنسی خرچ ہوتی ہے۔
نیز یہ بھی واضح فرمائیں کہ اگر کوئی اس وجہ سے یہ کھیل کھیلتا ہے کہ وہ ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ میں موجود غیر معمولی فحاشی سے بچ سکے، اس عذر کی بنیاد پر اس کے لیے یہ کھیل کھیلنا جائز ہوگا یا نہیں؟
ہر وہ کھیل جو ضیاع وقت اور فرائض وعبادات میں کوتاہی وغفلت کا سبب بنے اور اس میں کوئی دینی ودنیوی فائدہ نہ ہو، شریعت اس کھیل سےمنع کرتی ہے۔
پب جی گیم میں ان باتوں کے ساتھ ساتھ دیگر مفاسد کثیرہ بھی پائے جاتے ہیں، مثلا:
۱… اس گیم سے آدمی کی صحت اور دماغی قوت پر کافی اثر پڑتا ہے، جیساکہ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ اس گیم کو کھیلنے کی وجہ سے پاگل ہوگئے ہیں۔
۲… جو ایک دفعہ اس میں لگتا ہے وہ اس کا ایسا رسیا ہوجاتا ہے کہ اسے نماز تو کیا بہت سے دنیوی ضروری کاموں کا ہوش نہیں رہتا۔
۳… جو لوگ اس گیم کو بار بار کھیلتے ہیں ان کا ذہن منفی ہونے لگتا ہے اور وہ واقعی دنیا میں بھی مار دھاڑ کا سوچتے ہیں، جس سے واقعات وحادثات رونما ہوجاتے ہیں۔
۴… اس میں کارٹون کی شکل میں جاندار کی تصویر موجود ہوتی ہے، جو کہ شرعا ناجائز ہے۔
لہٰذا پب جی گیم کھیلنا شرعا جائز نہیں۔فیس بک، ٹک ٹاک وغیرہ کی غیر اخلاقی چیزوں سے بچنے کی خاطر بھی اس کی گنجائش نہیں نکل سکتی، اس لیے کہ ان سے بچنے کے اور بھی راستے ہیں اور کسی ناجائز اور حرام سے بچنے کے لیے ناجائز طریقے کو اختیار کرنا بھی منع ہے، صرف اس ایک فائدے کے لیے مذکورہ بالا مفاسد کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔لما في روح المعاني:’’و (لھو الحديث) كما روي عن الحسن: كل ما يشغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر، والإضحیاك، والخرافات، والغناء ونحوها‘‘. (سورة لقمان [الآية:6]، المجلد:10/21، مؤسسة الرسالة)وفي الدر مع الرد:’’(و) كره تحريماً (اللعب بالنرد و) كذا (الشطرنج)... وهذا إذا لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب وإلا حرام بالإجماع‘‘.’’قولہ: (والشطرنج) معرب شدرنج، وإنما كره لأن من اشتغل به ذهب عناؤه الدنيوي وجاءه العناء الأخروي، فهو حرام وكبيرة عند، وفي إباحته إعانة للشيطان على الإسلام والمسلمين كما في الكافي قھستاني‘‘. (كتاب الحظر والإباحة: 650/9، رشيدية)وفي التبيين:’’قال رحمه الله: (واللعب بالشطرنج والنرد وكل لھو) لقوله عليه الصلاة والسلام: ((كل لعب ابن آدم حرام إلا ثلاثة ملاعبة الرجل أهله، وتأديبه لفرسه، ومناضلته بقوسه)). وأباح الشافعي الشطرنج من غير قمار ولا إخلال بحفظ الواجبات لأن فيه تشحيد الخاطر وتذكية نار الإفھام والحجة عليه ما روينا، وما روي أن ابن عمر رضي الله عنھما مر بقوم يلعبون الشطرنج فلم يسلم عليھم، وقال: ما هذه التماثيل التي أنتم لھا عاكفون ولأنه لعب يصد صاحبه عن الجمع والجماعات وعن ذكر الله عزوجل غالبا فيكون حراما كالنردشير والنرد، قال عليه الصلاة والسلام: ((من لعب بالنردشير فكأنما صبغ يده في لحم خنزير)).رواه مسلم وأحمد وأبو داود‘‘. (كتاب الكراهية:70/7، دار الكتب العلمية بیروت).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/298