الحاج کا معنی اور حج اکبر کسے کہتے ہیں؟

 الحاج کا معنی اور حج اکبر کسے کہتے ہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  الحاج کے کیا معنی ہیں؟ اور حج اکبر کسے کہتے ہیں؟ اور اکثر میں نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ حجاج کرام اگر جمعہ والے دن حج ادا کریں، تو وہ حج اکبر ہوتا ہے اور سات حج کے برابر ثواب ملتا ہے اور وہ حاجی صاحب اپنے نام کے ساتھ الحاج لکھ سکتا ہے؟

جواب

”الحاج“ کا معنی ہے: حاجی، حج کے ارکان ادا کرنے والا، اور حج اکبر کے متعلق جو بات لوگوں میں مشہور ہے کہ اگر یوم عرفہ جمعہ کے دن آجائے تو وہ حج اکبر ہوگا، سو یہ بات ایک روایت میں بایں معنی آئی ہے کہ دنوں میں افضل دن وہ ہے جب یوم عرفہ جمعہ کے دن آجائے، اور اس دن کا حج ستر مرتبہ حج کرنے سے افضل ہے، لیکن یہ روایت سند کے ساتھ کہیں نہ مل سکی، لہٰذا جب تک یہ روایت کسی معتبر سند سے ثابت نہ ہو، اس وقت تک مذکورہ روایت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے بیان کرنا درست نہیں۔
البتہ دیگر متعد دروایات سے یہ بات بھی واضح ہے کہ ہر سال جو حج کیا جاتا ہے، وہی حج اکبر ہے۔ اور رہی یہ بات کہ اپنے نام کے ساتھ الحاج یا حاجی لکھنا، تو خود اپنے نام کے ساتھ الحاج یا حاجی لکھنے میں چوں کہ ریا کا خدشہ ہے، لہٰذا اگر خود نہ لکھا جائے تو بہتر ہے، البتہ اگر کوئی دوسرا شخص بطور تعظیم و تکریم کے حاجی سے پکارے یا نام کے ساتھ حاجی لکھے، تو کوئی مضائقہ نہیں۔
لما في قاموس الوحيد:
’’الحاج: حاجی، حج کے ارکان ادا کرنے والا‘‘۔ (ماده: حج، ص:313، ادارہ اسلامیات لاہور)
وفي فتح الباري:
’’وأما ما ذكره رزين في جامعه مرفوعًا: ((خير يوم طلعت فيه الشمس يوم عرفة وافق يوم الجمعة، وهو أفضل من سبعين حجة في غيرها))، فھو حديث لا أعرف حاله؛ لأنه لم يذكر صحابيه ولا من أخرجه‘‘.(كتاب التفسير، باب [اليوم أكملت لكم دينكم]، 345/8، قديمي)
وفي زاد المعاد:
’’وأما ما استفاض على ألسنة العوام بأنھا تعدل ثنتين وسبعين حجة، فباطل لا أصل له عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا عن أحد من الصحابة والتابعين، والله أعلم‘‘. (60/1، مؤسسة الرسالة)
وفي مجموع رسائل الملا علي القاري:
’’ثم الحاصل أن في يوم الحج الأكبر أربعة أقوال: الأول: أنه يوم عرفة، الثاني: أنه يوم النحر، الثالث: أنه يوم طواف الإفاضة، الرابع: أنه أيام الحج كلھا‘‘.
وفي مرقاة المفاتيح:
وعن جندب قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ((من سمع سمع الله به، ومن يرائي يرائي الله به)). متفق عليه. (كتاب الرقاق، باب الرياء والسمعة، 177/9، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/169