کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو ان الفاظ میں گالی دی کہ (تڑی ماں رکھاں) ان الفاظ کا مطلب ہے: کہ تیری ماں سے بدکاری کروں، تو ایسے شخص کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور اس کے اس گناہ کے کفارے کی کیا صورت ہوگی، کیا کوئی مالی جرمانہ یا کفارہ لازم ہوگا؟
والدین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا شرعًا ضروری ہے، ان کی نافرمانی اور ایذا رسانی سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے، قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت کی بڑی تاکید آئی ہے اور والدین کی نافرمانی اور ان کے ساتھ بد کلامی اور ان کو ستانے کی بہت وعیدیں آئی ہیں۔
چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:”وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا“.
ترجمہ: اور تیرے رب نے حکم دیا کہ بجز اس کی کسی کی عبادت نہیں کرو اور تم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو۔ اور حدیث پاک میں ہے کہ:وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال رسول صلى الله عليه وسلم: ”كل الذنوب يغفر الله منھا ما شاء إلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات“.
ترجمہ: حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شرک کے علاوہ تمام گناہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالی اس میں جس قدر چاہتا ہے بخش دیتا ہے، مگر والدین کی نافرمانی کے گناہ کو نہیں بخشتا، بلکہ اللہ تعالی والدین کی نافرمانی کرنے والے کو موت سے پہلے اس کی زندگی میں ہی جلد سزا دے دیتا ہے۔(شعب الإيمان للبيھقي، الخامس والخمسون من شعب الإيمان وھو باب في بر الوالدين 197/6، دار الكتب العلمية)
کسی مسلمان کو گالی دینا جس سے اس کو تکلیف پہنچے اسلام میں ناجائز ہے، احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہے۔ گالی دینا فحش گوئی ہے اور مذاق میں بھی فحش گوئی سے احادیث میں سخت ممانعت وارد ہوئی ہے:عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:.... وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ الخ.
ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم فحاشی اور فحش گوئی سے بچو کیونکہ اللہ تعالی فحاشی اور فحش گوئی کرنے والے کو نا پسند کرتا ہے۔ (مسند احمد: مسند عبد الله بن عمرو رضي الله عنه : 159/2، مؤسسة قرطبة)
یہ تو عام مسلمان کو گالی دینے سے متعلق ہے، چہ جائے کہ اپنے ہی بھائی کو ماں کی گالی دی جائے، یہ تو اپنی ہی ماں کو گالی دی جار ہی ہے، یہ انتہائی بد بختی اور شقاوت ہے۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ :
حضرت عبد اللہ بن عمرورضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے، لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کوئی اپنے والدین کو کیسے گالی دے سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کسی کے والد کو گالی دیتا ہے، تو وہ اس کے والد کو گالی دیتا ہے اور یہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے، تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔(صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب لا يسب الرجل والديه، رقم الورقة: 1046، دار السلام)
ملاحظہ کیجئے کہ دوسرے کے والدین کو گالی دینا جو سبب بن رہا ہے اپنے والدین کو گالی دینے کا، اس کو گناہ کبیرہ قرار دیا جارہا ہے، تو براہ راست اپنے والدین کو گالی دینا کتنا بڑا گناہ ہو گا! اسی وجہ سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حیرت سے سوال کیا ۔
لہٰذا مذ کورہ شخص کو چاہیے کہ فورا توبہ کرے اور والدہ اور بھائی سے بھی معافی مانگ لے، ورنہ کہیں آخرت میں، بلکہ آخرت کے ساتھ دنیا میں بھی کہیں پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑ جائے، البتہ کوئی مالی جرمانہ اور کفارہ اس پر لازم نہیں۔فقط۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:180/119