کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ (Eye brow) بنواتی ہے جب کہ میں نے ان کو حدیث بھی بتائی ہے، لعنت والی، مگر پھر بھی نہیں سنتی، کیا کروں؟نیز گھر میں ڈرامے چلتے ہیں ”ٹى وى“ پر ، بہت کہا مگر پھر بھی چلتے ہیں، والدہ نہیں مانتی۔ازراہ کرام رہنمائی فرمائیں۔
والدہ محترمہ کے ادب واحترام کا لحاظ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو دعوت دیتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی اور نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی اتباع کی اہمیت اور فضیلت ان کے سامنے بیان کی جائے، قبر اور آخرت کی ہولناکیوں سے ان کو آگاہ کیا جائے، اور ساتھ ساتھ دعاؤں کا خوب اہتمام کیجیے۔ انشاء اللہ تعالیٰ معاملہ حل ہوجائے گا۔
لمافي مرقاة المفاتيح:”عن ابن عباس رضي الله عنھما قال: لعنت الواصلة والمستوصلة، والنامصة والمتنمصة، والواشمة والمستوشمة من غير داء، رواه أبو داؤد، وقوله: (والنامصة) أي الناقصة للشعر من غير الإبط والعانة قيل: ھو من النمص وھو الشعر من الوجه بالخيط أو بالمنماص أي بالمنقاش وقيل: المراد بھا الناقشة أي الماشطة التي تزين النساء بالنمص“. (كتاب اللباس، الفصل الثاني، رقم الحديث: 4468، 245/8، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/62