قرض میں شرط لگانے کا حکم

قرض میں شرط لگانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  دو افراد کا آپس معاہدہ ہوا کہ ایک آدمی اس کو سعودیہ عربیہ کمانے کے واسطے بھیجے گا اور اس کا خرچہ اٹھائے گا دوسرا فریق سعودیہ میں کما کر حسب معاہدہ اس کو پیسے دینے کا پابند ہوگا،کیا یہ معاہدہ شرعا درست ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ معاملہ شرعا جائز نہیں، فریق اول نے فریق ثانی کو جو رقم دی ہے وہ شرعا قرض ہے اور قرض پر کسی قسم کا مشروط نفع لینا حرام ہے، اس معاہدہ کو ختم کرنا فریقین پر لازم ہے، شریعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے یہ کالعدم ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
لما فی الدر مع الرد:
’’كل قرض جر نفعا حرام (أي: إذا كان مشروطا)‘‘.(كتاب البيوع، فصل في القرض: 512/14، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/172