کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقوں میں دیہاتی علاقے جو فصل وغیرہ نہیں لگا سکتے ہم ان کے غیر زرعے زمینوں کو اجارہ پر لیتے ہیں پھر آگے چرواہوں کو اجارہ پر دیتے ہیں کیا ان کے جو حاصلات پیسے وغیرہ سے ہمارے لیے وہ جائز ہے یا ناجائز؟
واضح رہے کہ اجارہ شرعًا ایسے معاملہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے منافع پر واقع ہو، نہ کہ اس چیز کے عین پر۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں زمین کے محض گھاس کو اجارہ پر لینا اور آگے چرواہوں کے اجارہ پر دینا جائز نہیں ہے البتہ اگر زمین میں کوئی جگہ خیمہ یا باڑہ وغیرہ کے لیے کرایہ پر لی جائے اور مالک زمین کرایہ دار کے لیے مباح کردے کہ اس میں جانور چر سکتے ہیں، تو اس طرح معاملہ کرنا درست ہے، اور آگے چرواہوں کو بھی مذکورہ تفصیل کے ساتھ اجارہ پر دے سکتے ہیں بشرطیکہ اصل ملک زمین کی طرف سے مستاجر (جس نے زمین کرایہ پر لی ہے) کو آگے کرایہ (اجارہ) پر دینے کی اجازت ہو۔لما في بدائع الصنائع:”الإجارة نوعان: إجارة على المنافع، وإجارة على الأعمال، وجعل المعقود عليه في أحد النوعين المنفعة، وفي الآخر العمل، وهي في الحقيقة نوع واحد، لأنھا بيع المنفعة.... وإذا عرف أن الإجارة بيع المنفعة فخرج عليه بعض المسائل فنقول: لا تجوز إجارة الشجر والكِلاء للثمر، لأن الثمر عين والإجارة بيع المنفعة لا بيع العين.... ولا تجوز اجارة المراعي لأن الكلاء عين فلا تحتمل الإجارة.... المباح لا يكون محلاً للبيع، كالأعيان المباحة من الخطب والحشيش.... وعلى هذا أيضاً يخرج إجارة..... الآجام للسمك والقصب وإجارة المراعي للكلاء وسائر الأعيان المباحة أنھا غير جائزة لما بينا“. (كتاب الإجارة: 5/ 517، 518، 520، 524، رشيدية)وفي التاتارخانية:”ولا تجوز إجارة المراعي لم يرد به إجارة الأراضي فإن إجارة الأراضي جائزة، وإنما أراد به إجارة الكلاء.... والحيلة في جوازها أن يستأجر موضعاً من الأرض ليضرب فيھا فسطاطاً، أو يجعله حظيرة لغنمه، تصح الإجارة ويبيح صاحب المرعى له الإنتفاع بالمرعٰى“. (كتاب الإجارة: الفصل 15 نوع من المتفرقات، 143/15، فارسي).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/331